دھنکہ
شریف کے پیر حاجی رحمت اللہ 1930 میں مانسہرہ کے علاقے جسکراں میں پیدا
ہوئے انہوں نے پہلے پہل جسکران والے بابا جی اور بعد ازاں اپنے پیر و مرشد
بڑے میاں صاحب لاہور سے فیض حاصل کیا اور کئی سال تک حضرت داتا علی ہجویری
کے مزار پر مجاوری کی ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے اور پھر واپس اپنے گائوں
تشریف لے آئے ، اور 1967 اور 1968 میں دو سال تک دھنکہ شریف کے مقام پر
کھلے آسمان تلے دھوپ گرمی سردی سے بے پرواہ ہو کر بغیر کسی سائبان کے چلہ
کشی کی ۔ حاجی رحمت اللہ عرف پیر دھنکہ شریف نے اپنی زندگی میں دو دفعہ حج
بیت اللہ اور ایک دفعہ عمرہ کی سعادت حاصل کی ، 41 سال تک ایک جگہ پر ریاضت
اور مجاہدے کی وجہ سے ان کے جسم کا آدھا حصہ مفلوج ہو چکا تھا اور ٹانگیں
آپس میں جڑ گئی تھیں ، خوراک میں محض دودھ کی پیالی اور جو کی تھوڑی سی
روٹی کھاتے جو بعد میں فورا قے کر دیتے تھے ان کی اصل وجہ شہرت چھڑی تھی جو
ہر آنے والے شخص کو چھڑی مارتے اور دعا فرماتے ان کی دعا میں صرف تین
باتیں ہوتی تھیں ، اللہ نبی کرسی ( اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم
رحم کرے گا ) اللہ نبی فضل کرسی ( اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم
فضل کرے گا ) اللہ کرم کرسی ( اللہ کرم کرے گا ) یہ دعا وہ ہر آدمی کو
پڑھاتے تھے ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور موجودہ وزیر اعظم نواز شریف
اکثر بابا جی کے پاس حاضری دیا کرتے تھے مانسہرہ سے دھنکہ شریف تک کا سفر
قریبا چار گھنٹے کا بنتا تھا لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنگل بیابان میں
پکی روڈ بنوائی جو بالکل بابا جی کے آستانے تک جاتی ہے اس روڈ نے چار
گھنٹے کا طویل سفردو گھنٹے میں بدل دیا ۔ یاد رہے کہ حاجی رحمت اللہ
المعروف پیر دھنکہ شریف چار سال قبل انتقال فرما گئے ہیں ، ان کی جنازہ میں
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سمیت بابا جی کے لاکھوں عقیدت مندوں نے
شرکت کی ۔
It would be of
general public interest, especially the tax-payers, to know if a
resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s
pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in
Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In
his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a
source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’
he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must
have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely
the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source
tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a
danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating,
the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a
helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also
connected with the outside world through the construction of a paved
road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.
No comments:
Post a Comment