2020-05-03 - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Wednesday, May 6, 2020

Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

May 06, 2020 0

Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

قسط نمبر 2 - خواہشات کی چاہ میں ہم جان کی بازی ہارے - شفق کاظمی

Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray in Urdu

یار پانچ مہینے ہوگئے ہیں۔۔میں اس چار دیواری سے نہیں نکلی۔۔میں نے تو اتنے عرصے سے سورج کی ایک کرن نہیں دیکھی۔۔اب تو نیند بھی نہیں آتی۔نہ دن کا پتہ چلتا ہے نہ رات کا۔۔۔مجھ سے اچھے تو جیل میں رہنے والے قیدیوں کی زندگی ہے کم سے کم عدالت تک کا سفر تو کر لیتے ہیں میرے نصیب میں تو وہ بھی نہیں ہے۔۔۔الف نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے۔۔نجف کو بتایا جو کے اس کی بہت ہی اچھی دوست تھی۔
۔۔
یار الف میں آرہی ہوں تیرے گھر تو تیار رہنا ہم تھوڑی دیر باہر چلتے ہیں۔۔۔۔تیرا مائنڈ فریش ہوجائے گا۔۔
یار نجف ضد نہیں کر۔۔۔۔تو جانتی ہے میری زندگی نرق بنی ہوئی ہے۔۔مزید مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔میرا دل کرتا ہے کسی طریقے سے اس قید سے کہیں دور بھاگ جاؤں۔۔۔یا پھر میں اپنی جان دے دوں۔
۔۔۔۔
بکواس بند کرو الف بچوں جیسی باتیں نہیں کرو۔
۔۔۔۔
نجف تمہیں پتہ ہے بابا میری شادی زبردستی کروانا چاہتے وہ بھی وہاں جہاں میری کوئی قدر نہیں جہاں۔ میں ایک بار دھتکار دی گئی ہوں۔۔۔۔نجف میں نے ان لوگوں کی باتیں سنی تھیں۔۔وہ لوگ خوشی سے مجھ سے شادی نہیں کر رہے وہ ماما بابا کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ ماما بابا نے پسند کی شادی کی تھی۔۔۔۔جس پہ ان کو اعتراض تھا۔۔۔۔اب وہ اس بات کا بدلہ لینا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ میری ان کے بیٹے سے شادی ہو اور مجھے غلام بنا کے رکھیں اور کچھ ہی عرصے میں مجھے طلاق دے کر واپس بھیج دیں۔
۔بابا کو میری بات سمجھ نہیں آرہی ۔بابا ان کی باتوں میں آئے ہوئے ہیں۔۔میں نے منع کیا تو بابا کہتے ایسے کوئی منع نہیں کرتا ضرور تمہارے دل میں کوئی چور ہوگا۔۔۔یار تھک گئی ہوں میں اب تو میرے کردار پہ باتیں بننے لگیں۔۔۔الف رونے لگی۔۔۔
الف اچھا رونا بند کرو۔۔۔۔ایک کام کرو۔۔۔۔تم ارحم سے بات کرلو۔۔۔وہ تمہیں اس قید سے ضرور رہائی دلائے گا۔
۔۔۔۔
نہیں میں ارحم سے بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔میں خود اذیت میں رہ لوں گی۔۔۔مگر اس کو تکلیف نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ارحم مجھے میری جان سے بھی عزیز ہے۔۔۔۔ارحم بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔میں چاہتی ہوں وہ ہمیشہ خوش رہے میں ارحم کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔
الف پھر اور کون ہے جو تمہیں۔ اس جہنم سے نکال سکے اور آنے والی جہنم سے بھی بچا سکے۔۔۔۔میری جان کب تک اتنی تکلیفیں برداشت کرو گی۔
۔۔۔۔نجف کو الف کی فکر ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نجف بابا کہتے ہیں تم ہمارے لئے آزمائش ہو۔۔تم مرتی کیوں نہیں ہو مر جاؤ۔۔۔۔ماما بھی کہتی تم ضرور کچھ غلط کرو گی۔۔
تبھی تو کہ رہی ہوں۔۔۔۔۔غلط تو سب پہلے ہی سمجھتے ہیں تمہیں۔۔۔بھاگ جاؤ کہیں۔۔۔یا ارحم پاس چلی جاؤ۔۔۔
یار میں ماما بابا کی عزت پہ آنچ نہیں آنے دے سکتی ہوں۔
۔اور ارحم کے قابل نہیں ہوں میں۔۔میں آنے والی مشکلات کا سامنا کر لوں گی،یا پھر خود کشی کر لوں گی۔۔۔
خود کشی کر لینے سے کیا تمہارے ماما بابا کی عزت میں آنچ نہیں آئے گی۔۔یار پلیز اپنے لئے جینا سیکھو۔۔کوئی اور لڑکا ہے تو ٹھیک نہیں تو میں ارحم سے کہتی ہوں۔۔وہ لے جائے تمہیں۔۔۔۔
یار پلیز۔۔۔۔ارحم میرا دوست ہے۔۔بہت اچھا دوست۔
۔میں ایک دفعہ اس کو کھو چکی ہوں دوبارہ نہیں۔۔وہ چھین جائے گا مجھ سے،اس دنیا میں میرے پاس کوئی نہیں ہے۔پہلے میں اس کو اپنے دل کی ہر بات بتاتی تھی۔اب نہیں۔اب مجھے ڈر لگتا ہے۔۔
کاش میں تمہارے لئے کچھ کر سکتی الف۔۔۔۔نجف نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بس میرے لئے اتنا کرناکہ اگر میں مر جاؤں تو ارحم کو میری موت کا نہ بتانا۔۔۔۔وہ پریشان ہو جائے گا۔
۔میں اس کی زندگی سے جب چلی جاؤں گی تو وہ مجھے بے وفا سمجھ کے بھول جائے گا۔۔لیکن اگر اسے میری موت کا پتہ چلاتو وہ برداشت نہیں کرے گا۔۔میں اپنے دوست کو پریشان نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔
َالف تم خود کشی نہیں کرو گی سمجھی یہ گناہ ہے۔۔۔
میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔۔۔۔وہ مجھے طلاق دے کر واپس بھیج دیں گے۔۔مجھے طلاق جیسا دھبہ نہیں لگوانا اپنے ماتھے پہ۔الف رونے لگی۔۔۔کاش کوئی ایسا ہوتا جو مجھے گلے لگا کہ کہتا تیرے درد سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی تو ایسا ہوتا جسے مجھے کھونے سے ڈر لگتا۔کوئی تو ایسا ہوتا۔۔جو مجھ سے محبت کرتا۔یہ قسمت بھی کتنی عجیب ہے نہ اور دل بھی ان سے جا ملا جن سے مقدر نہیں ملتا۔۔الف نے روتے ہوئے فون بند کردیا۔۔۔۔
Read More

Episode 1 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

May 06, 2020 0

Episode 1 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

قسط نمبر 1 - خواہشات کی چاہ میں ہم جان کی بازی ہارے - شفق کاظمی

Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray in Urdu

 یار ارحم پلیز مجھے ان بلاک کرو۔۔۔یار مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں ہاتھ جوڑ کے تم سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ یار۔۔۔یار تیرے پاس بہت لوگ ہیں۔۔۔۔پر میرے پاس صرف تو ہے واپس آجا یار۔۔۔الف نے ارحم کو بیس میسج کردئیے۔۔بیس میسج کے بعد رسپانس آیا تو محض اتنا۔۔۔ مجھے بار بار میسج کر کے پریشان نہیں کرو۔۔تمہیں ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی الف۔
۔مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔
یار تو ایسا تو نہیں تھا۔۔۔تجھے کیا ہوگیا ہے الف ایک چھوٹے بچے کی مانند رونے لگی۔۔الف کو یاد آرہا تھا۔۔۔کیسے وہ اس کی خاطر پوری دنیا سے لڑ لیتی تھی۔ارحم الف کے لئے سب کچھ تھا۔۔۔۔خدا کی طرف سے دیا ہوا سب سے قیمتی تحفہ سمجھتی تھی۔۔۔۔الف اور ارحم کی دوستی کے چرچے ہر طرف تھے۔
۔۔مگر ناجانے کس کی بری نظر کھاگئی۔
۔سب ختم ہوگیا۔۔۔الف کے پاس واٹس ایپ پے ماہی کا میسج آیا۔الف ارحم کہ رہا ہے پلیز خدا کا واسطہ ہے میرا خیال رکھنا بند کردو۔۔ ماہی کے اس میسج سے الف کو بہت اذیت ہوئی۔۔۔الف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ماہی ارحم کو کہنا۔۔الف کہ رہی تھی میں مرگئی ہوں تمہارے لئے۔۔۔الف نے اپنے آنسو بے دردی سے صاف کئے۔۔۔۔۔
ارحم تم تو کہتے تھے۔۔الف تم میرے ہنسنے کی وجہ ہو۔
۔تم مجھے چھوڑ کے کبھی مت جانا۔۔ آج تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کے۔۔۔تمہیں مجھے چھوڑتے وقت مجھ پہ ترس نہیں آیا۔۔میں نے ہاتھ جوڑے تمہارے آگے۔۔۔مگر تم چلے گئے۔۔میں نے تم سے کہا تھا۔۔جب کبھی مجھ سے بیزار ہوجانا۔۔صرف ایک دفعہ کہہ دینا الف میری زندگی سے چلی جا میں چلی جاتی ہمیشہ کے لئے۔۔لیکن تو نے مجھے بلاک کردیا۔۔۔
کیا میں نے تمہیں اتنا تنگ کرلیا تھا کہ بلاک کرنے کی نوبت آگئی۔۔۔الف روتے روتے سو گئی۔۔۔
وقت گزرتا رہا۔۔۔الف خود کو اذیت دیتی رہی۔۔۔جب جب اس کو لگا اس نے اپنے جان سے پیارے دوست کو اذیت دی ہے تب تب وہ غلط میڈیسن کا استعمال کرتی۔۔وقت گزرتا رہا الف بیمار ہوتی گئی۔۔۔الف شدید بیمار ہوگئی۔۔۔ڈاکٹرز سے معلوم ہوا اس نے غلط میڈیسن کا استعمال کیا ہے۔
۔ڈاکٹر کے مطابق الف کچھ دن اور وہ دوائی کھاتی تو اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔۔۔۔الف چاہتی تھی مرنے سے پہلے ایک دفعہ اس کی ارحم سے بات ہوجائے۔۔۔لیکن کبھی وہ سوچتی چلو اچھا ہے ارحم کو اس کے بغیر رہنے کی عادت ہوگئی۔۔اب وہ مرے گی تو ارحم کو تکلیف نہیں ہوگی۔۔۔۔
ایک مہینے کے بعد ارحم۔ کا میسج آیا۔۔۔۔الف یار آئی مس یو۔۔۔الف نے ارحم کا میسج پڑھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
۔۔
ارحم اپنی زندگی کا بیکار سہ قصہ سمجھ کے بھول جاؤ مجھے۔۔۔۔۔
نہیں بھول سکتا تجھے میں۔۔
تو پھر مجھے چھوڑ کے کیوں گئے تھے تم۔۔۔تمہیں پتہ ہے تمہارے بغیر میں نہیں رہ سکتی تبھی چھوڑ گئے تھے نہ مجھے۔۔۔۔۔
اچھا اب آگیا ہوں نہ میں اب نہیں چھوڑ کے جاؤں گا۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تمہارے بغیر میں ویسے ہی اکیلے ہوگئی تھی جیسے بچپن سے آج تک ہوں۔
۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔جانتا ہوں تبھی تو آیا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف خاموش ہوگئی۔۔۔۔کیوں کے وہ جانتی تھی۔۔۔اس کے زیادہ بولنے کی وجہ سے ہی ارحم اس کو چھوڑ کے گیا تھا۔۔۔۔الف اپنے دل کی ہر بات بغیر کچھ سوچے سمجھے کہ دیتی تھی۔۔۔۔اس لئے وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔الف ایک بار ارحم کو کھو چکی تھی۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے اس کا یار پھر سے اس سے دور چلا جائے۔
۔۔۔الف نے خود سے میسج کرنا چھوڑ دیا تھا۔لیکن اس کو ارحم کے میسج کا انتظار رہتا تھا۔۔۔جب ارحم فری ہوتا تو میسج کردیتا تھا۔۔۔۔الف صرف اس میسج کا جواب دیتی۔۔۔۔وہ بات کرنا۔ چاہتی تھی۔۔۔ہنسی مذاق کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر نا جانے کیوں چھین جانے کا خوف ہوتا تھا۔۔۔الف کو لگتا تھا وہ مذاق کرے گی زیادہ باتیں کرے گی تو ارحم پھر سے اس سے دور چلا جائے گا۔۔۔۔

Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

https://dhanakasharif.blogspot.com/2020/05/episode-2-khwahishat-ki-chah-mein-hum.html
Read More