Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Wednesday, May 6, 2020

Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

قسط نمبر 2 - خواہشات کی چاہ میں ہم جان کی بازی ہارے - شفق کاظمی

Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray in Urdu

یار پانچ مہینے ہوگئے ہیں۔۔میں اس چار دیواری سے نہیں نکلی۔۔میں نے تو اتنے عرصے سے سورج کی ایک کرن نہیں دیکھی۔۔اب تو نیند بھی نہیں آتی۔نہ دن کا پتہ چلتا ہے نہ رات کا۔۔۔مجھ سے اچھے تو جیل میں رہنے والے قیدیوں کی زندگی ہے کم سے کم عدالت تک کا سفر تو کر لیتے ہیں میرے نصیب میں تو وہ بھی نہیں ہے۔۔۔الف نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے۔۔نجف کو بتایا جو کے اس کی بہت ہی اچھی دوست تھی۔
۔۔
یار الف میں آرہی ہوں تیرے گھر تو تیار رہنا ہم تھوڑی دیر باہر چلتے ہیں۔۔۔۔تیرا مائنڈ فریش ہوجائے گا۔۔
یار نجف ضد نہیں کر۔۔۔۔تو جانتی ہے میری زندگی نرق بنی ہوئی ہے۔۔مزید مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔میرا دل کرتا ہے کسی طریقے سے اس قید سے کہیں دور بھاگ جاؤں۔۔۔یا پھر میں اپنی جان دے دوں۔
۔۔۔۔
بکواس بند کرو الف بچوں جیسی باتیں نہیں کرو۔
۔۔۔۔
نجف تمہیں پتہ ہے بابا میری شادی زبردستی کروانا چاہتے وہ بھی وہاں جہاں میری کوئی قدر نہیں جہاں۔ میں ایک بار دھتکار دی گئی ہوں۔۔۔۔نجف میں نے ان لوگوں کی باتیں سنی تھیں۔۔وہ لوگ خوشی سے مجھ سے شادی نہیں کر رہے وہ ماما بابا کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ ماما بابا نے پسند کی شادی کی تھی۔۔۔۔جس پہ ان کو اعتراض تھا۔۔۔۔اب وہ اس بات کا بدلہ لینا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ میری ان کے بیٹے سے شادی ہو اور مجھے غلام بنا کے رکھیں اور کچھ ہی عرصے میں مجھے طلاق دے کر واپس بھیج دیں۔
۔بابا کو میری بات سمجھ نہیں آرہی ۔بابا ان کی باتوں میں آئے ہوئے ہیں۔۔میں نے منع کیا تو بابا کہتے ایسے کوئی منع نہیں کرتا ضرور تمہارے دل میں کوئی چور ہوگا۔۔۔یار تھک گئی ہوں میں اب تو میرے کردار پہ باتیں بننے لگیں۔۔۔الف رونے لگی۔۔۔
الف اچھا رونا بند کرو۔۔۔۔ایک کام کرو۔۔۔۔تم ارحم سے بات کرلو۔۔۔وہ تمہیں اس قید سے ضرور رہائی دلائے گا۔
۔۔۔۔
نہیں میں ارحم سے بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔میں خود اذیت میں رہ لوں گی۔۔۔مگر اس کو تکلیف نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ارحم مجھے میری جان سے بھی عزیز ہے۔۔۔۔ارحم بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔میں چاہتی ہوں وہ ہمیشہ خوش رہے میں ارحم کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔
الف پھر اور کون ہے جو تمہیں۔ اس جہنم سے نکال سکے اور آنے والی جہنم سے بھی بچا سکے۔۔۔۔میری جان کب تک اتنی تکلیفیں برداشت کرو گی۔
۔۔۔۔نجف کو الف کی فکر ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نجف بابا کہتے ہیں تم ہمارے لئے آزمائش ہو۔۔تم مرتی کیوں نہیں ہو مر جاؤ۔۔۔۔ماما بھی کہتی تم ضرور کچھ غلط کرو گی۔۔
تبھی تو کہ رہی ہوں۔۔۔۔۔غلط تو سب پہلے ہی سمجھتے ہیں تمہیں۔۔۔بھاگ جاؤ کہیں۔۔۔یا ارحم پاس چلی جاؤ۔۔۔
یار میں ماما بابا کی عزت پہ آنچ نہیں آنے دے سکتی ہوں۔
۔اور ارحم کے قابل نہیں ہوں میں۔۔میں آنے والی مشکلات کا سامنا کر لوں گی،یا پھر خود کشی کر لوں گی۔۔۔
خود کشی کر لینے سے کیا تمہارے ماما بابا کی عزت میں آنچ نہیں آئے گی۔۔یار پلیز اپنے لئے جینا سیکھو۔۔کوئی اور لڑکا ہے تو ٹھیک نہیں تو میں ارحم سے کہتی ہوں۔۔وہ لے جائے تمہیں۔۔۔۔
یار پلیز۔۔۔۔ارحم میرا دوست ہے۔۔بہت اچھا دوست۔
۔میں ایک دفعہ اس کو کھو چکی ہوں دوبارہ نہیں۔۔وہ چھین جائے گا مجھ سے،اس دنیا میں میرے پاس کوئی نہیں ہے۔پہلے میں اس کو اپنے دل کی ہر بات بتاتی تھی۔اب نہیں۔اب مجھے ڈر لگتا ہے۔۔
کاش میں تمہارے لئے کچھ کر سکتی الف۔۔۔۔نجف نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بس میرے لئے اتنا کرناکہ اگر میں مر جاؤں تو ارحم کو میری موت کا نہ بتانا۔۔۔۔وہ پریشان ہو جائے گا۔
۔میں اس کی زندگی سے جب چلی جاؤں گی تو وہ مجھے بے وفا سمجھ کے بھول جائے گا۔۔لیکن اگر اسے میری موت کا پتہ چلاتو وہ برداشت نہیں کرے گا۔۔میں اپنے دوست کو پریشان نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔
َالف تم خود کشی نہیں کرو گی سمجھی یہ گناہ ہے۔۔۔
میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔۔۔۔وہ مجھے طلاق دے کر واپس بھیج دیں گے۔۔مجھے طلاق جیسا دھبہ نہیں لگوانا اپنے ماتھے پہ۔الف رونے لگی۔۔۔کاش کوئی ایسا ہوتا جو مجھے گلے لگا کہ کہتا تیرے درد سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی تو ایسا ہوتا جسے مجھے کھونے سے ڈر لگتا۔کوئی تو ایسا ہوتا۔۔جو مجھ سے محبت کرتا۔یہ قسمت بھی کتنی عجیب ہے نہ اور دل بھی ان سے جا ملا جن سے مقدر نہیں ملتا۔۔الف نے روتے ہوئے فون بند کردیا۔۔۔۔

No comments: