Episode 1 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Wednesday, May 6, 2020

Episode 1 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

Episode 1 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

قسط نمبر 1 - خواہشات کی چاہ میں ہم جان کی بازی ہارے - شفق کاظمی

Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray in Urdu

 یار ارحم پلیز مجھے ان بلاک کرو۔۔۔یار مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں ہاتھ جوڑ کے تم سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ یار۔۔۔یار تیرے پاس بہت لوگ ہیں۔۔۔۔پر میرے پاس صرف تو ہے واپس آجا یار۔۔۔الف نے ارحم کو بیس میسج کردئیے۔۔بیس میسج کے بعد رسپانس آیا تو محض اتنا۔۔۔ مجھے بار بار میسج کر کے پریشان نہیں کرو۔۔تمہیں ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی الف۔
۔مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔
یار تو ایسا تو نہیں تھا۔۔۔تجھے کیا ہوگیا ہے الف ایک چھوٹے بچے کی مانند رونے لگی۔۔الف کو یاد آرہا تھا۔۔۔کیسے وہ اس کی خاطر پوری دنیا سے لڑ لیتی تھی۔ارحم الف کے لئے سب کچھ تھا۔۔۔۔خدا کی طرف سے دیا ہوا سب سے قیمتی تحفہ سمجھتی تھی۔۔۔۔الف اور ارحم کی دوستی کے چرچے ہر طرف تھے۔
۔۔مگر ناجانے کس کی بری نظر کھاگئی۔
۔سب ختم ہوگیا۔۔۔الف کے پاس واٹس ایپ پے ماہی کا میسج آیا۔الف ارحم کہ رہا ہے پلیز خدا کا واسطہ ہے میرا خیال رکھنا بند کردو۔۔ ماہی کے اس میسج سے الف کو بہت اذیت ہوئی۔۔۔الف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ماہی ارحم کو کہنا۔۔الف کہ رہی تھی میں مرگئی ہوں تمہارے لئے۔۔۔الف نے اپنے آنسو بے دردی سے صاف کئے۔۔۔۔۔
ارحم تم تو کہتے تھے۔۔الف تم میرے ہنسنے کی وجہ ہو۔
۔تم مجھے چھوڑ کے کبھی مت جانا۔۔ آج تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کے۔۔۔تمہیں مجھے چھوڑتے وقت مجھ پہ ترس نہیں آیا۔۔میں نے ہاتھ جوڑے تمہارے آگے۔۔۔مگر تم چلے گئے۔۔میں نے تم سے کہا تھا۔۔جب کبھی مجھ سے بیزار ہوجانا۔۔صرف ایک دفعہ کہہ دینا الف میری زندگی سے چلی جا میں چلی جاتی ہمیشہ کے لئے۔۔لیکن تو نے مجھے بلاک کردیا۔۔۔
کیا میں نے تمہیں اتنا تنگ کرلیا تھا کہ بلاک کرنے کی نوبت آگئی۔۔۔الف روتے روتے سو گئی۔۔۔
وقت گزرتا رہا۔۔۔الف خود کو اذیت دیتی رہی۔۔۔جب جب اس کو لگا اس نے اپنے جان سے پیارے دوست کو اذیت دی ہے تب تب وہ غلط میڈیسن کا استعمال کرتی۔۔وقت گزرتا رہا الف بیمار ہوتی گئی۔۔۔الف شدید بیمار ہوگئی۔۔۔ڈاکٹرز سے معلوم ہوا اس نے غلط میڈیسن کا استعمال کیا ہے۔
۔ڈاکٹر کے مطابق الف کچھ دن اور وہ دوائی کھاتی تو اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔۔۔۔الف چاہتی تھی مرنے سے پہلے ایک دفعہ اس کی ارحم سے بات ہوجائے۔۔۔لیکن کبھی وہ سوچتی چلو اچھا ہے ارحم کو اس کے بغیر رہنے کی عادت ہوگئی۔۔اب وہ مرے گی تو ارحم کو تکلیف نہیں ہوگی۔۔۔۔
ایک مہینے کے بعد ارحم۔ کا میسج آیا۔۔۔۔الف یار آئی مس یو۔۔۔الف نے ارحم کا میسج پڑھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
۔۔
ارحم اپنی زندگی کا بیکار سہ قصہ سمجھ کے بھول جاؤ مجھے۔۔۔۔۔
نہیں بھول سکتا تجھے میں۔۔
تو پھر مجھے چھوڑ کے کیوں گئے تھے تم۔۔۔تمہیں پتہ ہے تمہارے بغیر میں نہیں رہ سکتی تبھی چھوڑ گئے تھے نہ مجھے۔۔۔۔۔
اچھا اب آگیا ہوں نہ میں اب نہیں چھوڑ کے جاؤں گا۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تمہارے بغیر میں ویسے ہی اکیلے ہوگئی تھی جیسے بچپن سے آج تک ہوں۔
۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔جانتا ہوں تبھی تو آیا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف خاموش ہوگئی۔۔۔۔کیوں کے وہ جانتی تھی۔۔۔اس کے زیادہ بولنے کی وجہ سے ہی ارحم اس کو چھوڑ کے گیا تھا۔۔۔۔الف اپنے دل کی ہر بات بغیر کچھ سوچے سمجھے کہ دیتی تھی۔۔۔۔اس لئے وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔الف ایک بار ارحم کو کھو چکی تھی۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے اس کا یار پھر سے اس سے دور چلا جائے۔
۔۔۔الف نے خود سے میسج کرنا چھوڑ دیا تھا۔لیکن اس کو ارحم کے میسج کا انتظار رہتا تھا۔۔۔جب ارحم فری ہوتا تو میسج کردیتا تھا۔۔۔۔الف صرف اس میسج کا جواب دیتی۔۔۔۔وہ بات کرنا۔ چاہتی تھی۔۔۔ہنسی مذاق کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر نا جانے کیوں چھین جانے کا خوف ہوتا تھا۔۔۔الف کو لگتا تھا وہ مذاق کرے گی زیادہ باتیں کرے گی تو ارحم پھر سے اس سے دور چلا جائے گا۔۔۔۔

Episode 2 - Khwahishat Ki Chah Mein Hum Jaan Ki Baazi Harray By Shafaq Kazmi

https://dhanakasharif.blogspot.com/2020/05/episode-2-khwahishat-ki-chah-mein-hum.html

No comments: