Episode 16 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 16 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 16 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 16 - بدلتے رشتے - محمد تابش

Badaltay Rishtay in Urdu

ارشد یہ اریشہ کون ہے جب ارشد نے اریشہ کا نام سنا تو ہکا بکا ہو گیا کو کو کو کون اریشہ ارشد ہکلاتے ہوئے بولا وہی اریشہ جس کو تم نے میری طرح مجھ سے پہلے استعمال کیا ہے مجھے نہیں پتہ میں نہیں جانتا ارشد نظریں چراتا ہوا نگینہ سے بات کر رہا تھا بس بہت ہو گیا ارشد مجے کبھی پہلے پتہ ہوتا تم سے شادی تو دور تم سے ملن کی بھی غلطی نہ کر کرتی کیا کیا نہ سوچھا تھا میں مگر تم ایسے گھٹیا انسان نکلو گئے نگینہ روپڑی نگینہ میری بات سنو وہ جو بھی تھا ایک حادثہ تھا ارشد نگینہ کے کاندھے پر رکھتے ہوئے بولا دور رہو گندے انسان میں سب جان چکلی ہوں اب تم دیکھنا کہ کیا کرتی ہوں نگینہ نے اب پیکنگ کرنے لگی رک جاؤ میں اکیلا پڑ جاؤں گا پلیز رک جاؤ اب اسکا فیصلہ کورٹ ہی کرے گا مسٹر ارشد نگینہ دھمکی آمیز لہجے میں بولتی ہو ئی اپنے میکے چلی گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد کو بھتے کی دوسری اور آخری پرچی موصول ہو چکی تھی اب ارشد بلکل بے آسرا ہو چکا تھا اسنے اپنا سب کچھ اپنے ھاتھوں ختم کر دیا تھا اب کیا یہ وہی ارشد تھا جو محلوں میں رہنے کا عادی تھا جو زمین پہ قدم رکھنا اپنی توحین سمجھتا تھا آج بے یارو مددگار فٹ پاتھ پر شراب کے نشے میں دہتھ پڑا تھا کہ اسے نگینہ کی وہ بات یاد آئی ارشد یہ فٹ پاتھ والوں کا کوئی آسرا نہیں ہوتا اور اسکے جواب میں ارشد نے نگینہ کو کہا تھا کہ ہمیں اپنے مطلب ہونا چائیے کون کیا کر رہا ہے ہمیں کوئی غرض نہیں یہ یہ وہی ارشد تھا جو فائیو سٹار ہوٹلز میں کھانا کھاتا تھا آج دربا ر میں بیٹھا کھا رہا ہے یہ وہی ارشد تھا جسکو اپنے پیسے پہ گمنڈ تھا کہ سب کچھ خریدا جا سکتا ہے اس پیسے نے اسکی والدہ کو نہ لا کر دیا ارشد اپنی گاڑی وغیرہ سب کچھ بیچ چکا تھا بس ایک فیکٹری ہی رہ گی تھی جس میں ملازمین تنخواہ کے لیے فیکٹری کو تالہ لگائے ہوئے احتجاج کر رہے تھے اور دوساری وجہ بھتے کی پرچیاں موصول ہونے لگی تھی ارشد آج جتنا رو رہا تھا شاہد زندگی میں کبھی نہ رویا ہو۔
۔۔۔۔
محترم احباب کال اسکی آخری قسط ہے پڑھنا مت بھولیے گا شکریہ بدلتے رشتے اب اشد بلکل اکیلا ہو گیا تھا نہ نگینہ تھی اور نہ ہی کوئی دوست ایک چھوٹے سے گھر میں رہ رہا تھا جو گھر اسکے والد نے اپنی حیات میں اسکے نام کر کے چل بسا تھا اسکے بعد ارشد نہ کبھی اس مکان میں رہا اور نہ ہی کبھی چکر لگایا مگر اب اسے اسی گھر میں زندگی بسر کرنے لگا تھا اسنے بچی کچی دولت ملازمین کو دینے کے بعد فیکٹری کھولنے کی درخواست کی اور فیکٹری کچھ حد تک چل پڑی ارشد صفر ہو چکا تھا ارشد کا برانڈ کوئی بھی نہ لے رہا تھا اللہ اللہ کر کے ایک کمپنی کا آڈر بک ہوا کام شروع ہوتے ہی ارشد نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کچھ پریشانی حل ہونے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا اگر اشد ایسا ہے تو چھوڑ دو اسے نگینہ اپنی والدہ کو سب کچھ بتا چکی تھی انکا سارا گھر پریشانی سے دور چار تھا جس کرب کی حالت سے نگینہ گزر رہی تھی شاہد وہ بتانے کے لے اسکے پاس الفاظ ہی نہ تھے جب سے آئی تھی بس ماضی کو یاد کر تی رہتی اوررو دیتی ہر وقت اسکی آنکھیں سرخ رہنے لگی اور سخت بیمار پڑ گی امی میں کیا کروں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی وہ شخص جو مجھے زندگی کہا کرتا تھا میرے لیے مر مٹنے کو تیار تھا وہی شخص مجھے نا محرم کے پاس جانے کو کہتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی بڑی بات نہیں امی اسنے مجھ پہ ہاتھ ہاتھ تک اٹھایا مجھے روز ماراتھا نگینہ روتی ہوئی اپنی ماں کو سب کچھ بتا رہی تھی بیٹا اگر تھانے کچری کے چکروں میں پڑی تو تمھارے والد کی عزت خاک میں مل جائے گی تم ایسا کرو دوسری شادی کر لو نہیں امی میں اب شادی نہیں کروں گی میرا بھروسہ ٹوٹ چکا ہے امی بھروسہ جب ٹوٹتا ہے نہ تو بڑے سے بڑا صبر والا بھی کہیں کا نہیں رہتا امی میں کیا کروں میں اب موت ہی جائے تو ٹھیک ہے مگر میں شادی ہر گز نہیں کروں گی اور ارشد سے خلا لے لوں گی نگینہ کے الفاظوں سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسکا فیصلہ اٹل ہے اب کوئی بھی سمجھائے تو بھی نہ سمجھ پائے گی ارشد نے کئی بار معافی بھی مانگی نگینہ ک نہ مانی مگر نگینہ کے دل میں محبت اب بھی باقی تھی وہ اسکے پرانے میسجز پڑھتی اور بلک بلک کر رونے لگتی اسکا ایک دل کرتا کہ ارشد کو معاف کر دے مگر اگلے لمحے ہی اسے سب کچھ یاد آنے لگتا ارشد دن میں کئی بار کال کرتا نگینہ اپنا نمبربند کر دیتی اور کوئی جواب نہ دیتی اسے یہ بھی فکر لاحق تھی کہ نا جانے کس حال میں ہوگا کیسا ہوگا اسے دیکھنے کی ٹرپ اور پھر خود پہ کیے گئے ظلم و ستم اسے سوچنے سمجنھے کی صلاحیت کھو چکی تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا ناشتہ کر لو امی مجھے بھوک نہیں ہے صبح کے وقت نگینہ کی والدہ نے اسے اُٹھایا اور ناشتہ پ بلانے لگی بیٹا تھوڑا سا کھا لو دیکھو خود کی حالت کم سے کم ہمیں تو سزا دو بیٹا کھا لو کچھ اچھا امی میں آتی ہوں آپ لگائیں نگینہ بیڈ سے اٹھی اور فریش ہونے کے بعد ڈایننگ ٹیبل پہ آ بیٹھی 2.4لقموں کے بعد اسے چکر آنے لگے اور دل متلی ہونے پر منہ پہ ہاتھ رکھے باتھ روم بھاگ گئی نگینہ کی والدہ کو تشویش نے گھیر لیا اور والدہ کا شک یقین میں بدل گیا ہسپتال جانے پر پتہ لگا کہ نگینہ ماں بننے والی ہے ایسی صورت حال میں خوش ہوا جائے یا کیا کیا جائے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔
بیٹا اب کیا کہتی ہو آبرشن کروا لو اگر ارشد سے طالق نہیں رکھنا تو نگینہ کی امی نگینہ کے پاس بیٹھی محو گفتکو تھی کہ ارشد کی کال آ ئی گی نا چاھتے ہوئے بھی کال اُٹھانی پڑی دوسری طرف سے ارشد کی رونے کی آواز آ رہی تھی مجھے معاف کر دو خدا کا واسطہ ہے مجھے تمھاری ضرورت ہے نگینہ لوٹ آؤ میں سدھر چکا ہوں نگینہ بولو جواب دو نگینہ چپ چاپ باتیں سن رہی تھی نگینہ کا دل چاھا رہا تھا کہ اس سے بات کرے مگر وہ چاھ کر بھی کچھ بول نہ پا رہی تھی ارشد ارشد نگینہ نے 2لفظ بولے اور منہ پہ ہاتھ کر ماں کے گلے لگی اور زارو قطار رونے لگی شاہد کال کٹ چکی تھی 

No comments: