Episode 9 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish
قسط نمبر 9 - بدلتے رشتے - محمد تابش

آج نگینہ کی مہندی تھی اسکی تمام سہیلیاں مدعو تھی او رچھیڑ خانی کر رہی تھی ۔۔جیجو تو تمھیں دیکھ کر پاگل ہی ہو جائیں گے بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔دیکھو ہمیں بھول مت جانا ارے شادی ہونے دو دیکھنا ہمارا نام تک بھول جائے گئی جیجو کے ساتھ ہی بات کیا کرے گئی شادی کے بعد اسکی سہلیاں قہقے لگا کر ہنس رہی تھی چلو ہٹو میری بیٹی ایسی نہیں ہے کہ کسی کو بھول جائے نگینہ کی والدہ جو سارا ماجرہ دیکھ اور سن رہی تھی مسکراتی ہوئی نگینہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اسے دعائیں دینے لگی یہ لمحات کیمرے نے قابو کرلیے۔
۔۔ نگینہ کی والدہ کی اس سے پہلے کہ آنسو آتے وہ آنسو چھپاکر اندر کمرے میں جا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔بیگم کیا ہوا خوشی کا لمحہ ہے اور تم رو رہی ہو ہماری بیٹی محل میں جا رہی ہے۔
اسے دعا ئیں دواور چلو چپ رہو نگینہ کے والد نے نگینہ کی والدہ کو گلے لگاتے ہوئے سہارا دیا اور چپ کرواتے ہوئے ہوئے تسلی دی ۔
نگینہ سرخ جوڑے میں ملبو س نظروں کو جھکائے اب ڈولی کا انتظا کر رہی تھی۔
۔ نگینہ پہ آج ایسا نکھار آیا ہو ا تھا کہ اس سے پہلے نگینہ پہ اتنا نکھارنہ آیا ۔شایدیہ محبت کا نکھار تھا جو صرف نگینہ ہی سمجھ سکتی تھی۔ نگینہ کا دل ایک لمحہ بہت ذیادہ خوش اور اگلے ہی لمحے گھر والوں سے جدائی کا بھی غم تھا کہ موبائل پر بِل بجنے پر نگینہ کا دھیان فورن موبائل پرگیا اور مسکراتے ہوئے سکرین کو دیکھا جس پر ارشد کا نام تھا۔
۔ ہیلو میری جان کیاکر رہی ہو ارشد کی آواز سن کر نگینہ نے جواب میں کہا کہ آپکے آنے کا انتظار ۔۔سچ میں۔۔ ہاں نہ سچ میں۔۔ نگینہ کو وسری جانب سے ارشد کے اردگرد سے شور سنائی دینے لگا ۔ارشد کیا ہوا کس بات کا شور ہے۔۔ ہیلو ہیلو ارشد تم مجھے سن پا رہے ہو ارشد بولو نہ کیا ہوا۔۔۔ ارشد کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہو رہا تھا، البتہ شور کی صاف آوا ز آ رہی تھی مگر شور میں آواز کو سمجھنے میں بھی قاصر تھی کہ اچانک سے کال ڈراپ ہو گی۔
نگینہ نے کئی بار کال کرنے کی ناکام کوشش کی ،،اب نمبر بند جا رہا تھا۔ نگینہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے بے حد پریشانی کی حالت میں بیڈ سے اُ ٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو سامنے سے آتی بارات دیکھ کر دل کو سکون ملا اور پھر واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی۔نگینہ مہریں ولد شکور اکرم کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔ مولانا صاحب نے نگینہ سے 3بار قبول کا پوچھنے کے بعد مبارک باد دی اور گھرکو چل دیا ۔
نگینہ ماں کے ساتھ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔پھر یکے بادیگر سب سے ملی اور گاڑی میں سوار ہو گئی۔۔ راستہ آج کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کہ اچانک گاڑی نے ہچکولہ کھایا۔۔۔۔۔۔
نگینہ کے منہ سے اللہ باری تعالی کا ذکر بلند ہوا،ساتھ ہی گاڑی کا انجن بند ہو گیا۔ گاڑی میں بیٹھے سب افراد پریشان ہو گئے۔ کیا ہوا گاڑی کو۔ سر میں چیک کرتا ہوں ۔
۔ڈرائیو گاڑی کا دروازہ کھول کر کار کو چیک کرتے ہوئے صاحب انجن بہت گرم ہو چکا ہے پانی ڈالتا ہوں اوکے تم کرو ٹھیک ارشد کہہ کر موبائل کان سے لگاتے ہوئے مصروف ہو گیا۔۔ صاحب جی آ جائیں انجن سٹارٹ ہو چکا ہے گاڑی ارشد کے گھر خیریت سے پہنچ گی سب نے شکر ادا کیا۔۔ نگینہ نے پہلا قدم گاڑی سے نیچے اتارا۔۔ ذرا سی نگائیں اٹھا کر دیکھی کمکی لائیٹوں سے سارا محل جگ مگ کررہا تھا ۔
قدم نیچے رکھتے ہی گولوں کی آواز سے محل گونجنے لگا۔ نگینہ اب گھر کے اندر قدم رکھ چکی تھی۔ ارشد کے گھر میں انکے قریبی 2.4خاندان کے لوگ ہی آئے تھے۔ نگینہ کے قدم زمین پر پڑتے ہی گولوں کی آوازیں گونجنے لگی جس سے ماحول میں چار چاند لگ گئے۔
ارشد کی کزنز نے مل کر نگینہ کا بھرپور استقبال کیا ۔۔بھائی پیسے ا،رشد کی فیملی میں دروازہ رکوائی کی رسم تھی ۔
تمام کزنز اکھٹی ہو کر ارشد سے پیسے ایسے مانگنے لگی جیسے تاوان مانگا جاتا ہے ۔ارشد کی چونکہ کوئی بہن نہ تھی اس لیے وہ اپنی کزنز کو ہی بہنیں مان رہا تھا۔ بھائی ہمیں تو50ہزار ہی چاہیے، اس سے کم میں کوئی بات نہ بنے گی اپنی بھابی سے پوچھو اگر اجازت دیتی ہے تو لے لو او ہو ابھی سے جورو کا غلام بننے جا رہے۔ ہوہاہاہاہاہااہاہاہاہاہا اب تمام ماحول مزید خوشگوار بن گیا اور نگینہ بھی مسکرا دی ۔
اچھا یہ لو ارشد نے نوٹوں کے گڈی لڑکیوں کی طرف بڑھا دی ۔اب نازک کلیاں نگینہ کو اسکے روم تک لے جا رہی تھی اور پیچھے پیچھے ارشد بھی تھا۔ بھائی ابھی بہت وقت ہے آپ کدھر جارہے ہیں ان میں سے ایک لڑکی نے شرارتی انداز میں ارشد کو کہا۔۔ ارشد کچھ شرمندہ ہونے کے بعد باہر کی طرف چل دیا۔۔ نگینہ نے اپنے قدم اس سجے سنورے کمرے میں رکھے اور کمرہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔
۔ نگینہ کے ہر قدم پہ گلاب کے پھول کی پتیاں بکھری پڑی تھی۔ کمرہ لائٹس سے روش تھا ۔بیڈ پہ پھولوں کا گلدستہ اور پھول بکھیرے گئے تھے پرفیوموں کی مہک چاروں طرف کمرے کو مہکا رہی تھی نگینہ نے جیسا سوچھا تھا اس سے اچھا کمرے کو پایا۔
رات کے 11بج چکے تھے اور اب نگینہ کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہو گئی تھی دروازے کی کھٹک کھٹک نے نگینہ کو متوجہ کیا اور باہر سے ارشد در آمدہوا۔
۔ شیروانی میں نگینہ آج میری دنیا مجھے مل گی ہے کیا میں خواب تو نہیں دیکھ رہا، آج تم میری محرم بن گئی ہو مجھے اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ۔۔آج ارشد کے منہ سے پہلی بار ایسے لفظ نکل رہے تھے جو آ ج سے پہلے کبھی بھی ارشد نے نہ کہے تھے ۔نگینہ شرم کے مارے نگاہیں مزید جھکاتی جا ر ہی تھی ارشد نے حق مہر میں نگینہ کو پلاٹ اور مکان اسکے نام کر دیے تھے۔ زیور سے لدی ٹرے جو پہلی رات کا تحفہ دی ارشد نے نگینہ کے سپر دکر دی۔ کم و بیش 50تولے کے زیورات اس میں موجود تھے۔ مخمل کی چادر پہ بیٹھی تھی جو بے حد سکون دے تھی ارشد نے نگینہ کا ہاتھ تھام لیا۔۔
No comments:
Post a Comment