Episode 1 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 1 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 1 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 1 - بدلتے رشتے - محمد تابش


Badaltay Rishtay in Urdu

قسط نمبر 1 نگینہ کی آج شادی کی رات تھی وہ سج دھج کے بیڈ پر سرخ جوڑے میں لپٹی بیٹھی بے چینی سے اپنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی اسکے ذہین میں کئی طرح کے خوف تھے نگینہ کالج کی طالبہ تھی اور ارشد سے اسکی ملاقات بس سٹاپ پر ہوئی تھی ارشد کالے رنگ کی عینک لگائے اور پینٹ شرٹ میں ملبوس نگینہ کو تکتا رہتا تھا شروع شروع میں نگینہ نے ارشد پر دھیان نہ دیا مگر جب وہ ایک ہی جگہ ایک ہی وقت نگینہ کے لیے کھڑا ہوتا تھا۔

نگینہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تھی پیار محبت کی باتوں سے بہت دور رہتی تھی نگینہ کی نظر میں محبت صرف شادی کے بعد ہی ہوتی ہے نگینہ خود میں رہنے والی لڑکیوں میں سے تھی، کسی کی بات کو دل پہ نہ لیتی اور لڑائی کے بعد دل صاف کر لیتی، ایک بار کوئی معافی مانگ لے تو اسی وقت معاف کر دیتی تھی نگینہ کے خواب بہت بڑے تھے مگر گھر کے حالات کی وجہ سے اسکے خواب ادھورے رہ گے ، وہ بس ان خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی۔


نگینہ کی عمر لگ بگ 23,24کے قریب تھی نگینہ کی آنکھیں نیلی گہرئی اور ہونٹ گلابی تھے نگینہ خود پہ ذیادہ توجہ نہیں دیتی تھی مگر حسن نگینہ میں بلا کا تھا جو اسے دیکھتا بس دیکھتاہی رہتا ارشد مسلسل دو ماہ سے نگینہ کے پیچھے تھا نگینہ کو احساس اس بات کا تب ہوا جب وہ ارشد پرنگاہ ڈالتی وہ اسے ہی دیکھ رہا ہوتا تھا ایک بار خیال آیا کہ کیوں نہ اسکی شکایت کی جائے مگر پھر بوڑھے والد کا خیال آیا کہ بات آگے نہ بڑھ جائے نگینہ کا والد محنت مزدوری کرتا تھا نگینہ کے 2بھائی تھے اور جس میں سے ایک نکما تھا اور دوسرا چھوٹا تھا جو میٹرک میں پڑھائی کر رہا تھا والدہ اکثر بیمار رہتی تھی نگینہ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے گھر میں بچوں کو ٹویشن پڑھایا کرتی تھی گھر کا کچھ خرچہ والد اور باقی نگینہ سنبھالتی تھی نگینہ کو ناولزکہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔


آپ ہر روز میرے راستے میں کیوں کھڑے ہوتے ہیں مسٹر میں مسلسل آپکو نوٹ کر رہی ہوں۔۔ آخر کار آج نگینہ نے ارشد سے ہمت کر کے سوال کر ہی دیا نگینہ کا چہرہ چونکہ دوسری طرف تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی بات بنے اس لیے نگینہ دوسری طرف چہرہ کر کے بات کر رہی تھی۔ آپ اپنی نہیں کم سے کم میری عزت کا تو خیال کریں نگینہ تھوڑی نروس بھی ہو رہی تھی اُسنے انجان شخص سے پہلی بار بات کی تھی آپکی عزت کے لیے ہی تو کھڑا ہوتا ہوں آکر آپکو شاید معلوم نہیں کہ میرے ساتھ جو لڑکے کھڑے ہوتے ہیں انکی نگاہ آپکے جسم پہ ہوتی ہے اور وہ آپکو شیطانی نگاہوں سے دیکھتے ہیں میں آپکی سیفٹی کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تاکہ آپکے ساتھ کوئی بری حرکت نہ کرے ،اس دن کچھ اوباش لڑکے آپکے بارے غلط بات کر رہے تھے دیکھیں مسٹر میرے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے مجھے پرواہ نہیں اور میری عزت اللہ پاک کے ہاتھ ہے وہ ذات اگر نہ چاہے تو کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا اور برائے مہربانی آئندہ کے بعد میر ے راستے میں مت کھڑے ہونا ۔


۔دوسری سائیڈ سے گاڑی کے نگینہ کو متوجہ کیا اور نگینہ گاڑی پر سوار ہو کر چلی گئی۔۔ ارشد نگینہ کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔نگینہ رات کو بستر پر لیٹی تو اُسے دن والا خیال آنے لگا نگینہ نے اپنا دماغ جھٹک دیا اور سو گئی چونکہ اگلے دن چھٹی تھی ۔سارا دن کام کاج کر کے نگینہ شدید تھک گئی گرمیوں کا موسم تھا نگینہ آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گی کچھ دیر میں موسم نے انگڑائی لی اور آسمان پر بادل چھا گئے ٹھنڈی ہوائیں جب چلنے لگی نگینہ گھر کی چھت پر چلی گئی اور موسم کی انگڑائی کا بھرپور فائدہ اٹھا کر آنکھیں بند کیے لمبی لمبی سانس لینے لگی۔


۔ نگینہ نگینہ نگینہ کی سماعتوں نے اپنے نام کی صدا سنی اور آنکھیں کھول کر آگے پیچھے دیکھنے لگی مگر کوئی بھی نہیں تھا ،یہ آواز جانی پہچانی تھی غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ آواز اسی بس سٹاپ والے لڑکے کی ہے بیچارے کو میں نے خوامخواہ میں سنا دی نا جانے کون تھا، اسکا دل نا جانے کیوں دل کر رہا تھا کہ وہ اس لڑکے سے معافی مانگے نگینہ نے فیصلہ کر لیا کہ کل اس لڑکے سے معافی مانگے گئی اگلے دن بس سٹاپ پر جا کھڑی ہوئی ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود وہ انجان لڑکا اسے کہیں نظر نہ آیا البتہ کچھ فقرے سننے کو ضرور ملے۔۔

No comments: