Episode 11 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 11 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 11 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 11 - بدلتے رشتے - محمد تابش


Badaltay Rishtay in Urdu

 ابھی بھی کچھ گھرانوں میں دادماد کو سر آنکھوں میں رکھا جاتا ہے نگینہ بھی ایسی ہی عزت دینے والے گھر کی تھی انہیں ذرا کام تھا اس لیے وہ چلے گئے ہیں بیگم کچھ بناو ہماری بیٹی اتنے دنوں بعد آئی ہے جی جی جا رہی ہوں سمیر اور رضوان کدھر ہیں نگینہ نے چھوٹے بھائیوں کا پوچھتے ہوئے ادھر ادھر نگا ہ ڈالی سمیر ابھی سو رہا ہے اور رضوان دہی لینے گیا ہے بیٹا صحیح ہو کر بیٹھ جاؤ تھک گی ہوگی ابا جی ساری رات سو کہ ہی تو آئی ہو تھکوں گی کیسے اور میری تھکن امی کو دیکھ کر ختم ہو چکی ہے نگینہ نے مسکراتے ہوئے اپنے ابا کی طرف دیکھا ۔

اچھا یہ میں آپکے لیے کچھ لائی ہوں نگینہ ابا کے ہاتھ میں ایک ڈبہ پکڑاتے ہوئے بولی ارے بیٹا اسکی کیا ضرورت تھی تم آ گئی بہت ہے ۔ابا کیا میرا اب کوئی حق نہیں ۔

نگینہ افسردگی کے عالم میں ابا جان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ارے بیٹا کیسی بات کر رہی ہو تمھارا ہی گھر ہے ۔۔
باجی اسلام علیکم آؤ میرے لاڈلے بھائی باہر سے رضوان آیا آپی میرے لیے کیا لے کر آ ئی اممم او ہو مجھے تو یاد ہی نہیں رہا۔

نگینہ شرارتی لہجے میں رضوان کو بول رہی تھی۔ رضوان منہ بناتا ہوا باہر کو جانے لگا ارے رکو میرے ببر شیر یہ لو میں تمھارا کیسے بھول سکتی ہوں بھلا نگینہ رضوان کو پیکنگ والا ڈبہ پکڑاتے ہوئے ماتھا چوما ۔۔۔
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی مہوش کدھر ہے بیٹا اسکی والدہ کی طبیعت خراب تھی رشید کے ساتھ چلی گئی ہے ۔میں نے ہی اجازت دی تھی اچھا آپکی طبیعت کیسی ہے ہاں بیٹا اب کافی بہتر ہوں بہت خیال رکھا ہے مہوش نے یہ تو اچھی بات ہے امی میں کل دیر سے گھر آؤں گا میٹنگ میں جا رہا ہوں مہوش کو کہنا کہ رات ادھر ہی رک جائے ۔
موبائل پر بیل بجنے پر نگینہ نے موبائل کی طرف لپکی۔ ہیلو کیسی ہو نگینہ بہت جلدی یاد آ ئی نگینہ شکوہ کرتے ہوئے ارشد سے بات کر رہی تھی پورا ہفتہ ہو گیا آپ نے یاد تک نہ کیا یار کچھ مصروف ہوں میں اسی لیے کال نہیں کی کب آ رہے ہیں امی ابو آپکا پوچھ رہے تھے ۔میں 2.4دن میں آ جاؤ ں گا بس تھوڑا ساکام رہ گیا ہے ارشد وضاحت کر رہا تھا ۔امی کی طبیعت کیسی ہے ۔

ہاں اب کافی بہتر ہیں مہوش آ رہی ہے ہاں آ رہی ہے سر عارف صاحب آ گے ہیں ۔دوسری جانب سے شاید کوئی ارشد سے مخاطب کر رہیا تھا۔۔آیا بس اچھا نگینہ میں جا رہا ہوں ٹھیک ہے اپنا خیال رکھیے گا ۔
اسلام علکیم صاحب جی۔۔ ارے مہوش کیسی ہو ارشد دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے بیگ مہوش کو پکڑاتے ہوئے حال و احوال پوچھنے لگا۔۔ تمھاری امی کی طبیعت کیسی ہے جی صاحب اب بہتر ہیں اورہاں مجھے صاحب جی مت کہا کرو سر بولا کرو جی صاحب جی اوہو جی۔

۔ سر جی مہوش اپنا لفظ کو درست کرتے ہوئے ارشد سے کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔۔ رشید چلا گیا جی سر ابو چلے گئے ہیں گھر رات کے 11 بج چکے تھے تم نے میرے روم کی صفائی کر دی ہے نہیں سر مجھے یاد نہیں رہا اچھا جاؤ صفائی کرو میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔ جی سر کرتی ہوں مہوش حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ارشد کے کمرے میں چلی گئی ۔بہت خوبصورت ہو تم ارشد اب فریش ہو کر باہر آ گیا تھا اور مسلسل مہوش کے جسم کے خدوخال دیکھ رہا تھا۔


۔ مہوش بیڈ کو آگے کی طرف جھک کر صاف کر رہی تھی۔۔ مہوش کو احساس تب ہوا جب ارشد مہوش کے اس قدر قریب آگیا کہ مہوش کی مہک وہ با آسانی محسوس کر سکتا تھا۔۔
سر آ پ آ پ کیا کر رہے ہیں۔۔ کچھ نہیں مہوش تمھاری خوبصورتی دیکھ رہا ہوں۔۔ سر میں ایسی ویسی نہیں ہوں خدارا دور رہے مجھ سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔مہوش کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں لگے گا باہر کا موسم آج بہت ہیبت ناک تھا شدید بارش اور بجلی کی گرج چمک میں ماحول کو مزید ہیبت ناک بنا رکھا تھا۔

پلیز مجھے جانے دیں چھوڑیں مجھے مہوش اپنی کلائی کو چھڑواتے ہوئے شدید حیرانگی کے عالم میں تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ارشد کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ مہوش چھڑوا نہ پائی ۔ارشد نے مہوش کو بیڈ پہ دھکا دیا مہوش ارشد کا وزن برداشت نہ کر پائی ارشد کے منہ سے شدید گندی بدبو آرہی تھی جس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ارشد نشے میں ہے ۔۔ہوش آنے پر مہوش کو روتا ہوا پایا ۔


سوری مہوش جو بھی ہوا نشے میں ہوا دور رہے مجھ سے آپ نے میری عزت خاک میں ملا دی میں نے آپکو بڑے بھائی کا درجہ دیا تھا۔ مہوش بلک بلک کر رو رہی تھی ۔چپ کرو بکواس بند کرو ورنہ جو ہوا ہے سب کو بتا دوں گا لوگ یہی سمجھیں گئے کہ تم نے پیسے کے لیے سب کچھ کیا ہے عزت تمھاری ہی خراب ہو گی۔ یہ لو کچھ پیسے اور اپنی والدہ کا علاج کراؤ۔۔ ارشد مہوش کے پاس پیسوں کی غدی پھینکتے ہوئے باتھ روم چلا گیا ،اورہاں اگر کسی سے بھی ذکر کیا تو تمھارا سارا خاندان تباہ کر دوں گا میں سب کچھ کر سکتا ہوں ارشد کو اپنے پیسے پہ اتنا گھمنڈ تھا کہ وہ سوچھتا تھا کہ دنیا کی ہر چیز خرید سکتا ہوں ۔

No comments: