Episode 12 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 12 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 12 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 12 - بدلتے رشتے - محمد تابش

Badaltay Rishtay in Urdu

نگینہ میں شہر سے باہر جا رہا ہوں تم ذرا بشیر کے پاس جاؤ اور میٹنگ کر لو مجھے ذرا سہ کام ہے مگر ارشد وہ شخص نہایت گٹیا ہے آپکو نہیں پتہ وہ کیسا ہے نگینہ کو بشیر کے نام پہ غصہ آ رہا تھا یار کچھ نہیں ہوتا تم جاؤ اور چیک لے آؤ شوہر کا حکم ماننا ہی اصل بیوی ہونے کا ثبوت ہے ۔اب اسکا شوہر اسے حکم صادر کر رہا تھا میں ڈروائیور کو ساتھ میں بیج رہا ہوں تم تیا ر ہو جاؤ ۔
۔اچھا میں جاتی ہوں مگر جانا کدھر ہے وہ تمہیں ڈرائیور بتا دے گا ارشد نگینہ کو بات سمجھانے والے انداز میں نگینہ سے بات کر رہا تھا ۔کار ایک ویران فیکٹری میں رکی نگینہ کار سے اتری اور آس پاس نگاہیں ڈورانے لگی۔۔ یہ کیسی جگا ہے ادھر نہ بندا ہے نا بندے کی ذات ۔میں کال کرتی ہوں ارشد کو نگینہ دل ہی دل میں خوف کا شکا ر تھی ۔
۔کال کرنے پر پتہ لگا کہ ادھر سروس ہی نہیں ہے آفس میں داخل ہوتے ہوئے سامنے بشیر کو براجمان پایا ۔
۔آئیے میڈم آپکا ہی انتظار کر رہا تھا نگینہ کی نظریں اسے پہچان رہی تھی۔۔ وہ مسکراتے ہوئے نگینہ کو اسی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جب وہ پہلے ملے تھے ۔۔آپ اندر کیا کررہے ہیں آپ باہر بیٹھیں میں ذرا میڈمممممم سے میٹنگ کر لوں ۔ نگینہ کے اشارے نے ڈرائیور کو باہر بھیج دیا۔۔ جی بشیر صاحب کہیے آپکا آرڈر آپکو مل گیا ہے آپ چیک دیں تا کہ میں چلی جاؤں ۔
۔ارے میڈم چیک بھی مل جائے گا پہلے کچھ کافی وافی تو پی لیں بشیر کی آنکھوں میں شیطانی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔
نہیں بشیر صاحب کافی کی ضرورت نہیں نگینہ کا دل کر رہا تھا کہ اسکا سر پھاڑ دے مگر شوہر کا خیال آتے ہی نگینہ برداشت کر رہی تھی ۔یہ لیں اگر آپ مجھ سے تعاون کریں گی تو میں مزید آرڈر بھی دے سکتا ہوں بشیر مسکراہٹ کے ساتھ نگینہ سے بولا ،کیا مطلب ہے؟ محترمہ مطلب کو چھوڑیے یہاں آپکے اور میرے سوا کوئی نہیں ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگے گا بشیر چیک نگینہ کے ہاتھ میں چیک پکڑاتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
۔ دیکھیں بشیر صاحب میں آپکو بتا رہی ہوں بہت برا ہوگا آپکے ساتھ دور رہیں مجھ سے۔۔ نگینہ 2 قدم پیچھے ہٹٹے ہوئے شدید غصہ کی حالت میں تھی۔ تمھاری وجہ سے ہی تو میں نے بزنس کیا تھا ۔۔تمھارے ہسبنڈ سے جب سے تمھیں دیکھا ہے اسی دن سے تمھارے حُسن کا دیوانہ ہو گیا۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں تمھیں کیا کچھ دے سکتا ہوں ۔۔چھوڑ دو ارشد کو رشید نگینہ کی طرف آگئے بڑھتا رہا نگینہ کی پیٹھ دیوار سے لگ چکی تھی اور مزید پیچھے نہ جا سکتی تھی ۔
۔بکواس بند کرو میں چیخ کر سب کو اکٹھا کر لوں گی اور ارشد کو تمھای اصلیت کا بتا دوں گی۔۔ ارشد مجھے کیا کہے گا ارشد نے مجھ سے ادھاربہت پیسا اٹھا رکھا ہے وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔۔رشید کی شیطانیت عروج پر پہنچ چکی تھی۔۔ رشید میں تمھاری بیٹی کی عمر کی ہوں۔۔ نگینہ اب رونے لگ چکی تھی۔ رشید نے نگینہ کی کمر کو تھاما ہی تھا کہ نگینہ نے زور دار تھپڑ گال پر رسید کرتے ہوئے اسکے 14طبق روشن کر دئیے اور اسے دھکا دیتے ہوئے باہر نکل گی ۔
اب تمھیں میں بتاوں گا رشید بدلے کی آگ میں جلتا ہوااپنے گال پہ ہاتھ رکھے ہوئے نہایت غصے میں لال پیلا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد اسنے مجھے چھونے کی کوشش کی ہے۔ نگینہ ارشد سے کال پہ بات کرتے ہوئے رو رہی تھی اسکے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے بلک بلک کر روتے ہوئے سارا قصہ ارشد کو بتانے لگی ۔اسکی یہ مجال کہ اسنے تم سے ایسی حرکت کی کوشش کی تم کال کاٹو میں کرتا ہوں اسکا بندو بست ۔
رشید صاحب اتنی بھی کیا جلدی تھی آپکو ایک دو ملاقاتیں اور کر لیتے ۔۔تمھاری بیوی نے مجھے تھپڑ مارا ہے اب تم دیکھنا کے تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔ رشید انتقامی انداز میں ارشد سے شدید تلخ لہجے میں بات کر رہا تھا۔ مجھے میرے6ملین 2 دن کے اندر اندر واپس کرو ورنہ اپنی بربادی کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔۔ رشید ارشد کو دھمکی دے رہا تھا۔ رشید صاحب سوری سروہ نا سمجھ ہے آپکے بارے میں نہیں جانتی اپنی بکواس بند کرو اور میرے پیسے 2 دن کے اندر واپس کرو ۔
۔رشید گرجتا ہوا ارشد سے شدید ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا۔
نگینہ جلدی سے آ ج ہی گھر آجاؤ بہت ضروری کام ہے۔۔ کیا ہوا ارشد خیریت تمھیں جتنا کہا ہے اتنا کرو فضول کی بحث مت کرو مجھ سے۔۔ ارشد ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نگینہ کو ڈانٹ رہا تھا ۔۔اچھا آجاتی ہوں ۔۔امی مجھے جانا ہوگا ضروری کام ہے ارشد نے بلایا کیوں بیٹا اچانک سے تیاری نگینہ کی والدہ نے فکر مندی سے کہا جی امی سب ٹھیک ہے اچھا بیٹا اللہ پاک کے حوالے نگینہ کی ماں اسے دعا میں رخصت کرنے لگی

No comments: