Episode 12 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish
قسط نمبر 12 - بدلتے رشتے - محمد تابش

نگینہ میں شہر سے باہر جا رہا ہوں تم ذرا بشیر کے پاس جاؤ اور میٹنگ کر لو مجھے ذرا سہ کام ہے مگر ارشد وہ شخص نہایت گٹیا ہے آپکو نہیں پتہ وہ کیسا ہے نگینہ کو بشیر کے نام پہ غصہ آ رہا تھا یار کچھ نہیں ہوتا تم جاؤ اور چیک لے آؤ شوہر کا حکم ماننا ہی اصل بیوی ہونے کا ثبوت ہے ۔اب اسکا شوہر اسے حکم صادر کر رہا تھا میں ڈروائیور کو ساتھ میں بیج رہا ہوں تم تیا ر ہو جاؤ ۔
۔اچھا میں جاتی ہوں مگر جانا کدھر ہے وہ تمہیں ڈرائیور بتا دے گا ارشد نگینہ کو بات سمجھانے والے انداز میں نگینہ سے بات کر رہا تھا ۔کار ایک ویران فیکٹری میں رکی نگینہ کار سے اتری اور آس پاس نگاہیں ڈورانے لگی۔۔ یہ کیسی جگا ہے ادھر نہ بندا ہے نا بندے کی ذات ۔میں کال کرتی ہوں ارشد کو نگینہ دل ہی دل میں خوف کا شکا ر تھی ۔
۔کال کرنے پر پتہ لگا کہ ادھر سروس ہی نہیں ہے آفس میں داخل ہوتے ہوئے سامنے بشیر کو براجمان پایا ۔
۔آئیے میڈم آپکا ہی انتظار کر رہا تھا نگینہ کی نظریں اسے پہچان رہی تھی۔۔ وہ مسکراتے ہوئے نگینہ کو اسی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جب وہ پہلے ملے تھے ۔۔آپ اندر کیا کررہے ہیں آپ باہر بیٹھیں میں ذرا میڈمممممم سے میٹنگ کر لوں ۔ نگینہ کے اشارے نے ڈرائیور کو باہر بھیج دیا۔۔ جی بشیر صاحب کہیے آپکا آرڈر آپکو مل گیا ہے آپ چیک دیں تا کہ میں چلی جاؤں ۔
۔ارے میڈم چیک بھی مل جائے گا پہلے کچھ کافی وافی تو پی لیں بشیر کی آنکھوں میں شیطانی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔
نہیں بشیر صاحب کافی کی ضرورت نہیں نگینہ کا دل کر رہا تھا کہ اسکا سر پھاڑ دے مگر شوہر کا خیال آتے ہی نگینہ برداشت کر رہی تھی ۔یہ لیں اگر آپ مجھ سے تعاون کریں گی تو میں مزید آرڈر بھی دے سکتا ہوں بشیر مسکراہٹ کے ساتھ نگینہ سے بولا ،کیا مطلب ہے؟ محترمہ مطلب کو چھوڑیے یہاں آپکے اور میرے سوا کوئی نہیں ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگے گا بشیر چیک نگینہ کے ہاتھ میں چیک پکڑاتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
۔ دیکھیں بشیر صاحب میں آپکو بتا رہی ہوں بہت برا ہوگا آپکے ساتھ دور رہیں مجھ سے۔۔ نگینہ 2 قدم پیچھے ہٹٹے ہوئے شدید غصہ کی حالت میں تھی۔ تمھاری وجہ سے ہی تو میں نے بزنس کیا تھا ۔۔تمھارے ہسبنڈ سے جب سے تمھیں دیکھا ہے اسی دن سے تمھارے حُسن کا دیوانہ ہو گیا۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں تمھیں کیا کچھ دے سکتا ہوں ۔۔چھوڑ دو ارشد کو رشید نگینہ کی طرف آگئے بڑھتا رہا نگینہ کی پیٹھ دیوار سے لگ چکی تھی اور مزید پیچھے نہ جا سکتی تھی ۔
۔بکواس بند کرو میں چیخ کر سب کو اکٹھا کر لوں گی اور ارشد کو تمھای اصلیت کا بتا دوں گی۔۔ ارشد مجھے کیا کہے گا ارشد نے مجھ سے ادھاربہت پیسا اٹھا رکھا ہے وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔۔رشید کی شیطانیت عروج پر پہنچ چکی تھی۔۔ رشید میں تمھاری بیٹی کی عمر کی ہوں۔۔ نگینہ اب رونے لگ چکی تھی۔ رشید نے نگینہ کی کمر کو تھاما ہی تھا کہ نگینہ نے زور دار تھپڑ گال پر رسید کرتے ہوئے اسکے 14طبق روشن کر دئیے اور اسے دھکا دیتے ہوئے باہر نکل گی ۔
اب تمھیں میں بتاوں گا رشید بدلے کی آگ میں جلتا ہوااپنے گال پہ ہاتھ رکھے ہوئے نہایت غصے میں لال پیلا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد اسنے مجھے چھونے کی کوشش کی ہے۔ نگینہ ارشد سے کال پہ بات کرتے ہوئے رو رہی تھی اسکے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے بلک بلک کر روتے ہوئے سارا قصہ ارشد کو بتانے لگی ۔اسکی یہ مجال کہ اسنے تم سے ایسی حرکت کی کوشش کی تم کال کاٹو میں کرتا ہوں اسکا بندو بست ۔
رشید صاحب اتنی بھی کیا جلدی تھی آپکو ایک دو ملاقاتیں اور کر لیتے ۔۔تمھاری بیوی نے مجھے تھپڑ مارا ہے اب تم دیکھنا کے تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔ رشید انتقامی انداز میں ارشد سے شدید تلخ لہجے میں بات کر رہا تھا۔ مجھے میرے6ملین 2 دن کے اندر اندر واپس کرو ورنہ اپنی بربادی کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔۔ رشید ارشد کو دھمکی دے رہا تھا۔ رشید صاحب سوری سروہ نا سمجھ ہے آپکے بارے میں نہیں جانتی اپنی بکواس بند کرو اور میرے پیسے 2 دن کے اندر واپس کرو ۔
۔رشید گرجتا ہوا ارشد سے شدید ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا۔
نگینہ جلدی سے آ ج ہی گھر آجاؤ بہت ضروری کام ہے۔۔ کیا ہوا ارشد خیریت تمھیں جتنا کہا ہے اتنا کرو فضول کی بحث مت کرو مجھ سے۔۔ ارشد ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نگینہ کو ڈانٹ رہا تھا ۔۔اچھا آجاتی ہوں ۔۔امی مجھے جانا ہوگا ضروری کام ہے ارشد نے بلایا کیوں بیٹا اچانک سے تیاری نگینہ کی والدہ نے فکر مندی سے کہا جی امی سب ٹھیک ہے اچھا بیٹا اللہ پاک کے حوالے نگینہ کی ماں اسے دعا میں رخصت کرنے لگی
No comments:
Post a Comment