Episode 13 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 13 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 13 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 13 - بدلتے رشتے - محمد تابش

Badaltay Rishtay in Urdu

ارشد نگینہ تم نے رشید صاحب سے بدمیزی کیوں کی، تمھیں پتہ ہے نہ انکے ہم پہ کتنے احسانات ہیں اب وہ مجھے سے 6ملین واپس مانگ رہا ہے کیوں کیا تم نے ایسا۔۔ ارشد تلخ لہجہ میں نگینہ سے بات کر رہا تھا۔ ارشد کیا مطلب ہے آپکا آپکونہیں پتہ اسنے میرے ساتھ کیا کرنے کی کوشش کی ہے بتاؤ ں آپکو؟اسنے مجھے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔۔ نگینہ ارشد کو بات بتاتے ہوئے رو پڑی ۔
۔دیکھو نگینہ بزنس میں ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے اگر وہ تم سے بات کرنا چاہتا تھا تو تم کر لیتی ۔۔کیا مطلب ہے ارشد نگینہ حیرانگی کے عالم میں ارشد کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔ کوئی مطلب نہیں اس وقت میرا دماغ خراب ہے دفعہ ہو جاؤ کک کیا کہا آپ نے مجھے۔۔ دفعہ ہو جاؤنگینہ ارشد کا لفظ دوہراتے ہوئے غصہ میں بات کر رہی تھی مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ تم ارشد ہو آپ مجھ سے کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
۔ جواب دیں مجھے ارشد نگینہ ارشد کا گریبان پکڑے طیش میں آئی ہوئی تھی میں آپکی بیوی ہوں کوئی رکھیل نہیں جو مردوں کو خوش کروں آپ نے جو کہا میرا دماغ پھٹ کے باہر آ جائے گا کون اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ غیر محرم کے پاس جاؤ اور بات مانو۔۔۔ نگینہ میرا دماغ اس سے پہلے مزید خراب ہو اپنی شکل لے کر چلی جاؤ مجھے اکیلا چھوڑ دو ارشد نے نگینہ کو بازو سے پکڑتے ہوئے بیڈ پہ دکھا دیا اور باہر چلا گیا۔
۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگینہ کی راتیں ارشد کے لہجہ کی وجہ سے حرام ہو چکی تھی بار بار گھڑی کی ٹک ٹک سن رہی تھی کہ دروازہ کی بیل کی وجہ سے نگینہ کی توجہ دروازے کی جانب ہوئی اور دروازہ کھولنے باہر چلی گی۔۔ تم سوئی نہیں ابھی تک ارشد نے داخل ہوتے ہی سوال کیا۔۔ جی سو جاؤ ں گی۔۔ نگینہ نے ناگواری کے انداز میں ارشد سے بات کی۔۔ ابھی تک غصہ میں ہو۔
۔ نگینہ بنا جواب دئیے کمرے میں چلی گی۔۔ کھانا لگ گیا ہے کھا لیں۔ نہیں میں کھا کر آیا ہوں تم کھا لو ۔۔نگینہ ماتھے پر بل چڑھا کر کھانا واپس رکھنے چلی گی۔۔ واپسی کمرے میں آئی تو ارشد کی کو عجیب سے پایا ا۔رشد کی آنکھیں لال سرخ تھی ۔بولنے پر گندی بدبو محسوس کی ۔ارشد خیریت ہے کیا ہوا نگینہ پریشانی میں ارشد کے ماتھے پر ہاتھ لگانے کے بعد پتہ لگا کہ اسنے شراب پی رکھی ہے۔
۔ سنو میرے پاس آؤارشد نے مدہوشی میں نگینہ کو پاس بلایا ۔۔نہیں تم نے شراب پی ہے اور یہ حرام چیز ہے نہیں آؤں گی۔ میں نے کہا پاس آؤ۔۔ارشد چلاتے ہوئے پھر سے بولا ۔۔نہیں آنا مجھے تم بہت غلط انسان ہو ۔نگینہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ میری بکوا س نہیں سن رہی پاس آ ؤ اس بار ارشد رگرج والی آواز میں بولا ۔۔نہیں آؤں گی ابھی امی کو جا کر بتاتی ہوں نگینہ کھڑی ہوئی باہر جانے لگی کہ ارشد نے نگینہ کو بالوں سے پکڑکر جھنجوڑتے ہوئے بولا تم نے ابھی میری محبت دیکھی ہے میرا غصہ نہیں تم خود کو بہت حور پری سمجھتی ہو نا جانے تم جیسی کتنی لڑکیاں میرے آگے پیچھے گھومتی ہیں ۔
ارشد چھوڑو مجھے درد ہو رہی ہے نگینہ درد کی شدت کو برداشت نہ کر پا رہی تھی تم نے میرا بہت نقصان کیا ہے تمھیں اسکا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ ارشد مسلسل نگینہ پہ آگ بگولہ ہو رہا تھا خدا کا واسطہ ہے چھوڑو مجھے پلیززززززززز کیا ہو گیا ہے تمھیں نگینہ زارو قطار رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔
 ارشد نگینہ کو گھسیٹاہواباہر لے گیا اور اندر سے دروازہ بند کر دیا۔
نگینہ تم کدھر پھنس گی ہو کیا یہ وہی ارشد ہے اتنی کرینگ کرنے والا اتمی محبت کرنے والا نہیں نہیں یہ وہ نہیں ہے نگینہ خود سے سوال جواب کر رتی ہوئی صوفہ پر بیٹھی تھی صبح کے 7بجے تھے مگر اب تک نگینہ کے آنسوخشک ہیں ہو پائے ۔
امی میں آفس جا رہا ہوں اپنا خیال رکھنا مہوش آتی ہی ہو گی وہ آپکا خیال دوسرے سے اچھا رکھتی ہے ارشد طنزیہ لہجے میں والدہ کو دروازے کے باہر سے بات کر رہا تھا نگینہ سب سن رہی تھی اسنے بھی کسی بات کا جواب نہ دیا اور اٹھ کر کمرے میں چلی گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ارشد تمھارا وقت ختم ہو چکا ہے میرے پیسے دو بشیر ارشد کے آفس جا پہنچا اگر شام تک میرے پیسے مجھے نہ ملے تو قانونی کاروائی کروں گا بشیر کوئی بات بھی سننے کوتیار نہیں تھا بشیر صاحب بیٹھ کر بات کرتے ہیں نہ مجھے اب کوئی بات نہیں سننی شام تک پیسے مل جانے چائیے بشیر ارشد کو دھمکی دیتا ہوا باہر چلا گیا۔

No comments: