Episode 14 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 14 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 14 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 14 - بدلتے رشتے - محمد تابش

Badaltay Rishtay in Urdu

کیا ہوا میڈم خیریت ہے نہ؟مہوش کمرے کی صفائی کرنے لگی تو نگینہ کی دیھان کرنے پر معلوم ہوا ہے اسکی آنکھیں لال سرخ ہیں آپکو تو بہت تیز بخار ہے میں دواء لاتی ہوں مہوش پریشان ہوتے ہوئے نگینہ کے لیے دواء کے لیے باہر جانے لگی مہوش مجھے جو بخار ہے وہ ٹھیک نہیں ہو سکتا تم رہنے دو کیا مطلب میم؟مہوش تشویش لہجہ میں نگینہ کے لیے فکر مند تھی کچھ نہیں تم جاؤ کام کرو نہیں میں آپکو چھوڑکر نہیں جاؤں گی مہوش باضد تھی میں دواء لے کر آتی ہوں اتنا کہہ کر مہوش باہر چلی گی اور نگینہ کو دواء دینے لگی تمھاری شادی ہو گی ہے کیا؟نگینہ نے مہوش سے سوال کیا نہیں میڈم امی ابو کہتے ہیں اگر شادی کر دی تو وہ لوگ اکیلے ہو جائیں گئے اورویسے بھی میں ابھی پڑھنا چاھتی ہوں مہوش ٹیبل پر گلاس رکھتے ہوئے بولی۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے نگینہ ٹھیک ہے میں تمھیں پڑھاوں گی نگینہ نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا سچی باجی ٹھیک ہے میں بھی آپکی طرح بننا چاہوں گی نہیں میری طرح نہ بننا نگینہ کچھ سوچتے ہوئے دل دل میں سوش رہی تھی جو اسکے ساتھ ہو رہا ہے کیا مطلب باجی آپکی طرح کیوں نہیں کچھ نہیں باجی آپسے ایک بات پوچھیں ہاں پوچھو مہوش نگینہ موبائل سائیڈ پر کھتے ہوئے کیا بات ہے باجی وہ آپ سے لڑتے تو نہیں ہیں کون کس کی بات کر رہی ہو نگینہ مہوش کو دیھکتے ہوئے سوالیہ نظروں سے دیکھ پوچھ رہی تھی سر ارشد کی بات کر رہی نہیں نہیں ایسا نہیں وہ تو ہزاروں میں ایک ہے نگینہ کی گال پر سے آنسووں سے بھر گی اچھا تم اب جاؤ مجھے آرام کرنے دو وپ اپنے آنسووں کو چھپاتے ہوئے بولی جی باجی میں جا رہی ہوں 
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سر جی سر جی مہوش گبھراتی ہوئی ارشد کے کمرے میں چلی گی ارشد ابھی کام سے آیا تھا کیا ہواسر سر سر مہوش نے ارشد کے دروازے کو دستک دی اتنی گبھرائی ہوئی کیوں ہوکیا ہوا ارشد دروازہ کھولتے ہوئے مہوش کو حیرانی کے عالم میں پوچھنے لگا سر اماں اماں کیا ہوا اماں کو سر وہ بول نہیں پا رہی سانس بھی اکھڑ رہا ہے ارشد فورن کمرے سے باہر آیا ساتھ ہی نگینہ بھی دوڑتی چلی آئی امی جان کیا ہوا امی جان کچھ بولیں ارشد شدید پریشان حال میں اپنی والدہ سے پوچھنے لگا ایمبولینس کو کال کرو جلدی نگینہ نے ارشد کو تلقین کرتے ہوئے بولی پتہ نہیں وہ آتے ہیں نہیں نگینہ تم امی کو تھاموں اور مہوش تم بھی چلو ہسپتال ارشد نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور چل دیا امی کچھ بولیں امی جان نگینہ زبیدہ کو بار بار بلا رہی تھی مگر زبیدہ بول نہ پا رہی تھی کوئی ڈاکٹر ہیں مریض کی حالت بہت خراب ہے پلیز دکھیں سر آپ تشریف رکھیں ڈاکٹر صاحب آتے ہیں نرس نے ارشد کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا نرس مریضہ کو ایمر جنسی میں شفٹ کروئے جلدی داکٹر نے نرس کو اشارے میں کہتا ہوا ایمرجنسی میں چلا گیا 
نگینہ اور مہوش عائین کرنے لگی نگینہ تم دونوں کچھ کھا لو صبح کا وقت ہو گیا ہے ارشد ہاتھ میں دوائیوں کا شاپر ہاتھ میں پکڑے پاس کھڑا تھا ارشد کی آنکھ میں آج تک اس سے نگینہ نے نہیں دیکھے تھے ارشد کیا ہوا حوصلہ کریں مہوش ارشد کے پاس جا کھڑی ہوئی آپ پریشان نہ ہوں نا امید نہ ہوں ارشد نگینہ کے سر پر اپنے سینے سے لگاتا ہوا تپکی دینے لگا ڈاکٹر صاحب 6گھنٹے گزر چکے ہیں اب امی کا کیا حال ہے ارشد انکا بی پی بہت ہائی تھا اور شوگر لیول بھی ہائی تھا دمہ کب سے ہے ایک سال سے ہے علاج چل رہا تھا اشد ڈکٹر کو وضاحت کرنے لگا برحال آپ لوگ دعا کریں ڈاکٹر اشد کے کاندھے کو تھپتاتے ہوئے آگے چل دیاآپ مل سکتے ہیں اب اپنے مریض سے وارڈ میں شفٹ کرنے کے بعد امی جان کیسی ہیں آپ ارشد زبیدہ کے سرہانے کھڑا ہوا ماں کا ہاتھ تھامے ہوئے پوچھ رہا تھا زبیدہ کی بس آنکھیں کھلی تھی اب بھی بول نہ پا رہی تھی نگینہ زبیدہ کی پاوں کی جانب بیٹھی تھی جبکہ مہوش دوسری سائیڈ پر کھڑی پانی پلا نے لگی تھی زبیدہ بس انگلی ہلا پا رہی تھی ۔

No comments: