Episode 15 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish - DHANAKA SHARIF
It would be of general public interest, especially the tax-payers, to know if a resident pir lives in the Prime Minister House presently. Nawaz Sharif’s pir of the past was the celebrated Dewana Baba of Dhanaka Sharif in Mansehra District. His real name was Rahmat Ullah. He died in 2008. In his second term as PM, Sharif had his village electrified, according to a source from that area. When Sharif exited in 1993, the only ‘souvenir’ he left behind for his successor Benazir Bhutto was Dewana Baba. BB must have believed that if the Baba got Sharif two terms in office, surely the pir’s prayers and blessings must have endowed her too. My source tells me she would trek the hilly terrain where the Baba lived holding a danda to beat his VVIP and other visitors with. The more the beating, the more the benedictions from the pir. Eventually, PM Benazir had a helipad constructed for her frequent commute. “Dhanaka Sharif was also connected with the outside world through the construction of a paved road on Benazir Bhutto’s orders,” says the source.

Episode 15 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

Episode 15 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish

قسط نمبر 15 - بدلتے رشتے - محمد تابش

Badaltay Rishtay in Urdu

آج زبیدہ کو داخل ہوئے ہوئے تیسرا دن تھا اب تک زبیدہ اسی حالت میں تھی ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد نرس کو اشارے سے پاس بلایا اور کہا کہ مریضہ کی حالت سنبھل نہیں پا رہی تم ڈاکٹر امجد کو کال کرو اور بلاولو جی سر میں بلاتے ہوں نرس وارڈ سے باہر چلی گی۔
ڈاکٹر صاحب مریضہ کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے اب کیا کرنا چائیے ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں سارے ٹیسٹ تو کلیر ہیں پھر بھی کچھ سسمجھنہیں آ رہا ڈاکٹر آپس میں ڈسکس کر رہے تھے کہ باہر سے نرس چلاتی ہوئی اندر آئی س وہ مریضہ کی حالت پھر سے خراب ہو گئی ہے چلیں آپ سب باہر چلیں ڈاکٹر نے ارشد کی ساری فیملی کو باہر بھیج دیا اور پمپ کرنے لگے مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی زبیدہ خالق حقیقی کا جا ملی تھی ڈاکٹر باہر آماس کو آتارا اور ارشد کو حوصلہ دیتے ہوئے بولا صبر رکھو کیا مطلب ڈاکٹر صاحب سوری ہم بچا نہیں پائے اتنا سن کر ارشد اور سب روتے ہوئے وارڈ میں چلے گئے ارشد اب شدید رنج سے 2.4 تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد والدہ کا بہت افسوس ہوا ایک دن سب نے ہی جانا ہے جی بشیر صاحب بس اللہ کی مرضی لگ بگ 15 دن کے بعد بشیر نے ارشد کوکال کی ارشد صاحب جو ہو نا تھا ہو گیا اب مہربانی کر کے میرے پیسے لوٹا دیں اور کال کاٹ دی اب ارشد پہ کڑا امتحان تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد نے بشیر کے پیسے دینے کے لیے اپنا دوسرا مکان سیل کر دیا اور بشیر کو پیسے دے دئیے اب نہ کوئی نیا آرڈر آ رہا تھا اور نہ ہی اب کسی مارکیٹ میں ارشد کا مال ڈلیور ہو رہا تھا ارے سر آپکا مال کس طرح لے لیں ہم ایک تو آپکی کمپنی کو خسارہ جا رہا ہے اور مال بھی وقت پہ نہیں پہنچ پاتا سوری سر ہم نے کسی اور سے ایگرمینٹ کر لیا ہے ارشد جو اپنے ملازمین کو مارکیٹ آرڈر لینے بھیجا کرتا تھا اب خود کے جانے پر بھی اسکی کمپنی کا مال کوئی نہ لے لے رہا تھا بشیر نے اس قدر ارشد کو گندہ کر دیا تھا کہ ماکیٹ میں ارشد کی کوئی ویلیو باقی نہ رہ گی تھی مارکیٹ میں ارشد نے اتنا لون لے لیا تھا کہ اب چکانا مشکل ہو رہا تھا ارشد شدید مایوسی کا شکا ہو چکا تھا اب اسے کوئی بھی راستہ نظر نہ آتا تھا بچا کچا روپیہ بھی ارشد نے لگا دیا تھا مگر کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد مجھے نوکری کی اجازت دیں میں کچھ کرنا چاھتی ہوں اب ارشد کی صرف ایک ہی فیکٹری چل رہی تھی مگر بات مارکیٹ کی تھی کوئی بھی انکا برانڈ لینے کو تیار نہیں تھا ارشد نے وہ کوٹھی بیچ کر اپنی فیکٹری کو بچایا تھا جو جس پر پہلے 24کام ہوا کرتا تھا آج وہ وقت تھا کہ دن میں صرف 2گھنٹے کام ہوا کرتا تھاارشد نگینہ کی بات سن کر خاموش تھا اسے کوئی جواب دیے بغیر باہر چلا گیا اب نگینہ اورارشد کا جھگڑا معمول کا کام بن گیا تھا نگینہ نے پھر ایک فیصلہ لے لیا ارشد میں تمھارے ساتھ مزید وقت نہیں گزرانا چاھتی تنگ آ گی ہوں روز روز کی کڑ کڑ سے مجھے اب تم سے آزادی چائیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو مسسز ارشد کیا حال ہے اب نگینہ نے اپنے موبائل آنے والے میسج کو دیکھتے ہوئے جواب میں جاننے کی کوشش کی کون ہو تم میں تمھاری چاھنے والی میں نے سوچھا آپ سے ایک میٹنگ کر لوں کیا مطلب کیسی میٹنگ آپ آئیں تو سہی نگینہ پہلے آپ بتائیں گی تو آوں گی نہ آپکی تعریف میں جو بھی ہوں ملنے لے بعد بتاؤں گی دوسری سائیڈ سے جس ایڈریس پہ نگینہ کو پہنچنا تھا وہ درج تھا ۔
ارشد بے یارو مدد درد در کی ٹھوکریں کھانے لگا ارشد کا بسنس مکمل طو پہ ختم ہو چکا تھا اسی اثنا میں ارشد کو ایک چیٹھی موصول ہوئی جس کو پڑھ کر ارشد کے ہوش اُرگئے بھتے کی پرچی پر ڈیڑھ کڑور کی دیمانڈ کی گئی تھی ارشد مزید مشکلات میں گھیر چکا تھا اب چاروں طر ف اسے اندھیرا ہی اندھیرہ نظر آ رہا تھا 
نگینہ شام ڈھلتے ہی بتائے گئے ایڈریس پر پہنچ گئی جی محترمہ پہلے یہ بتائیں میرا نمبر کدھر سے لیا او مجھے بلانے کا کیا مقصد تھا نگینہ صاحبہ مقصد تو ابھی پورا ہونا باقی ہے تمھارے ہسبنڈ نے میری عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا ان میں سے میں ایک ہوں میرے ساتھ بھی اسنے شادی کے خواب سجائے تھے میرا نام اریشہ ہے وہ میرے جذبات سے کھیل رہا ہے انسے مجھے کئی بار استعمال لیا اور پھر چھوڑ دیا نگینہ یہ سب سن کر شدید حیران ہو رہی تھی کہ ارشد ایسا ہے ابھی ارشد کی اصلیت اسکے سامنے آئی تھی اسکا دماغ سن تھا سوچنے سننے سے قاصر ہوتا جا رہا تھا بی بی تم ہوش میں ہو تو نگینہ نے کچھ تلخ لہجہ میں بات کرنے لگی ہاں اب ہوش میں پہلے نہیں تھی اور ایک اور بات وہ جو بشیرہے نہ وہ میرا ہسبنڈ ہے جو کچھ ارشد نے میرے ساتھ کیا وہی کچھ تمھارے ساتھ ہونے لگا تھا مگر تم قسمت والی ہو بچ گی ہو خیر میں نے اسے تباہ کرنا تھا پس کر دیا ابھی آگے دیکھو ہوتا ہے کیا عورت جب انتقام پہ آجائے تو نسلیں بگاڑ دیتی ہے اور ویسا ہی انتقام اب اریشہ لے رہی تھی

No comments: