Episode 15 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish
قسط نمبر 15 - بدلتے رشتے - محمد تابش

آج زبیدہ کو داخل ہوئے ہوئے تیسرا دن تھا اب تک زبیدہ اسی حالت میں تھی ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد نرس کو اشارے سے پاس بلایا اور کہا کہ مریضہ کی حالت سنبھل نہیں پا رہی تم ڈاکٹر امجد کو کال کرو اور بلاولو جی سر میں بلاتے ہوں نرس وارڈ سے باہر چلی گی۔
ڈاکٹر صاحب مریضہ کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے اب کیا کرنا چائیے ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں سارے ٹیسٹ تو کلیر ہیں پھر بھی کچھ سسمجھنہیں آ رہا ڈاکٹر آپس میں ڈسکس کر رہے تھے کہ باہر سے نرس چلاتی ہوئی اندر آئی س وہ مریضہ کی حالت پھر سے خراب ہو گئی ہے چلیں آپ سب باہر چلیں ڈاکٹر نے ارشد کی ساری فیملی کو باہر بھیج دیا اور پمپ کرنے لگے مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی زبیدہ خالق حقیقی کا جا ملی تھی ڈاکٹر باہر آماس کو آتارا اور ارشد کو حوصلہ دیتے ہوئے بولا صبر رکھو کیا مطلب ڈاکٹر صاحب سوری ہم بچا نہیں پائے اتنا سن کر ارشد اور سب روتے ہوئے وارڈ میں چلے گئے ارشد اب شدید رنج سے 2.4 تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد والدہ کا بہت افسوس ہوا ایک دن سب نے ہی جانا ہے جی بشیر صاحب بس اللہ کی مرضی لگ بگ 15 دن کے بعد بشیر نے ارشد کوکال کی ارشد صاحب جو ہو نا تھا ہو گیا اب مہربانی کر کے میرے پیسے لوٹا دیں اور کال کاٹ دی اب ارشد پہ کڑا امتحان تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد نے بشیر کے پیسے دینے کے لیے اپنا دوسرا مکان سیل کر دیا اور بشیر کو پیسے دے دئیے اب نہ کوئی نیا آرڈر آ رہا تھا اور نہ ہی اب کسی مارکیٹ میں ارشد کا مال ڈلیور ہو رہا تھا ارے سر آپکا مال کس طرح لے لیں ہم ایک تو آپکی کمپنی کو خسارہ جا رہا ہے اور مال بھی وقت پہ نہیں پہنچ پاتا سوری سر ہم نے کسی اور سے ایگرمینٹ کر لیا ہے ارشد جو اپنے ملازمین کو مارکیٹ آرڈر لینے بھیجا کرتا تھا اب خود کے جانے پر بھی اسکی کمپنی کا مال کوئی نہ لے لے رہا تھا بشیر نے اس قدر ارشد کو گندہ کر دیا تھا کہ ماکیٹ میں ارشد کی کوئی ویلیو باقی نہ رہ گی تھی مارکیٹ میں ارشد نے اتنا لون لے لیا تھا کہ اب چکانا مشکل ہو رہا تھا ارشد شدید مایوسی کا شکا ہو چکا تھا اب اسے کوئی بھی راستہ نظر نہ آتا تھا بچا کچا روپیہ بھی ارشد نے لگا دیا تھا مگر کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد مجھے نوکری کی اجازت دیں میں کچھ کرنا چاھتی ہوں اب ارشد کی صرف ایک ہی فیکٹری چل رہی تھی مگر بات مارکیٹ کی تھی کوئی بھی انکا برانڈ لینے کو تیار نہیں تھا ارشد نے وہ کوٹھی بیچ کر اپنی فیکٹری کو بچایا تھا جو جس پر پہلے 24کام ہوا کرتا تھا آج وہ وقت تھا کہ دن میں صرف 2گھنٹے کام ہوا کرتا تھاارشد نگینہ کی بات سن کر خاموش تھا اسے کوئی جواب دیے بغیر باہر چلا گیا اب نگینہ اورارشد کا جھگڑا معمول کا کام بن گیا تھا نگینہ نے پھر ایک فیصلہ لے لیا ارشد میں تمھارے ساتھ مزید وقت نہیں گزرانا چاھتی تنگ آ گی ہوں روز روز کی کڑ کڑ سے مجھے اب تم سے آزادی چائیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو مسسز ارشد کیا حال ہے اب نگینہ نے اپنے موبائل آنے والے میسج کو دیکھتے ہوئے جواب میں جاننے کی کوشش کی کون ہو تم میں تمھاری چاھنے والی میں نے سوچھا آپ سے ایک میٹنگ کر لوں کیا مطلب کیسی میٹنگ آپ آئیں تو سہی نگینہ پہلے آپ بتائیں گی تو آوں گی نہ آپکی تعریف میں جو بھی ہوں ملنے لے بعد بتاؤں گی دوسری سائیڈ سے جس ایڈریس پہ نگینہ کو پہنچنا تھا وہ درج تھا ۔
ارشد بے یارو مدد درد در کی ٹھوکریں کھانے لگا ارشد کا بسنس مکمل طو پہ ختم ہو چکا تھا اسی اثنا میں ارشد کو ایک چیٹھی موصول ہوئی جس کو پڑھ کر ارشد کے ہوش اُرگئے بھتے کی پرچی پر ڈیڑھ کڑور کی دیمانڈ کی گئی تھی ارشد مزید مشکلات میں گھیر چکا تھا اب چاروں طر ف اسے اندھیرا ہی اندھیرہ نظر آ رہا تھا
نگینہ شام ڈھلتے ہی بتائے گئے ایڈریس پر پہنچ گئی جی محترمہ پہلے یہ بتائیں میرا نمبر کدھر سے لیا او مجھے بلانے کا کیا مقصد تھا نگینہ صاحبہ مقصد تو ابھی پورا ہونا باقی ہے تمھارے ہسبنڈ نے میری عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا ان میں سے میں ایک ہوں میرے ساتھ بھی اسنے شادی کے خواب سجائے تھے میرا نام اریشہ ہے وہ میرے جذبات سے کھیل رہا ہے انسے مجھے کئی بار استعمال لیا اور پھر چھوڑ دیا نگینہ یہ سب سن کر شدید حیران ہو رہی تھی کہ ارشد ایسا ہے ابھی ارشد کی اصلیت اسکے سامنے آئی تھی اسکا دماغ سن تھا سوچنے سننے سے قاصر ہوتا جا رہا تھا بی بی تم ہوش میں ہو تو نگینہ نے کچھ تلخ لہجہ میں بات کرنے لگی ہاں اب ہوش میں پہلے نہیں تھی اور ایک اور بات وہ جو بشیرہے نہ وہ میرا ہسبنڈ ہے جو کچھ ارشد نے میرے ساتھ کیا وہی کچھ تمھارے ساتھ ہونے لگا تھا مگر تم قسمت والی ہو بچ گی ہو خیر میں نے اسے تباہ کرنا تھا پس کر دیا ابھی آگے دیکھو ہوتا ہے کیا عورت جب انتقام پہ آجائے تو نسلیں بگاڑ دیتی ہے اور ویسا ہی انتقام اب اریشہ لے رہی تھی
No comments:
Post a Comment