Episode 8 - Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish
قسط نمبر 8 - بدلتے رشتے - محمد تابش

عصمت ایک چائے لے کر آؤ سر بہت دکھ رہا ہے۔۔۔ لایا میم۔۔ عصمت باہر گیا اور فورن سے پہلے نگینہ کے ٹیبل پہ چائے رکھتے ہوئے چائے کی ٹرے نیچے گر گئی۔۔ اندھے ہو کیا دیکھ کر کام نہیں کر سکتے گند کر دیا ہے صاف کرو ۔۔ارشد جو ابھی نگینہ کے آفس میں آیاتھا۔ ۔۔کیا ہو گیا ہے آپکو چائے ہی گری ہے نہ آسمان سر پہ کیوں اٹھا لیا ہے۔۔نگینہ نے ارشد سے کہا۔۔۔
نگینہ تم ہر شخص کو لمٹ میں رکھا کرو یہ لوگ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں ۔۔ارشد ایسا نہیں کہتے ابھی وہ صاف کر دے گا اچھا ٹھیک ہے وہ کل والی ڈیل پکی ہوئی تھی وہ فائل تیار کر کے بھیجو آج وہ لوگ ایگریمنٹ پہ سائن کرنے آ رہے ہیں ایسا کرو تم ڈریس بدل لو اور ڈوپٹہ مت اوڑھنا وہ لوگ شاید اس چیز کو نوٹ کریں۔۔ ارشد کی باتوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کو مہرہ بنا کر پروجیکٹ لے رہا ہے مگر ارشد میں آج تک آفس میں بغیر نقاب کے نہیں آئی اور آپ بغیر ڈوپٹے کے مجھے ان میں بیٹھائیں گئے۔
۔ نگینہ جان آپکو پتہ ہے ایسا پروجیکٹ کبھی کبھی ہاتھ لگتا ہے اور میں اُسے گنوانا نہیں چاھتا اس پیار کے انداز میں ارشد کا بولنا نگینہ کو اچھا لگا اور وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنی کرسی سے اُٹھی اور کپڑے بدلنے کی تیاری کرنے لگی ۔۔۔
ویلکم سر آئیں۔۔ ارشد پر جوش انداز میں آنے والے مہمانوں کا استقبال کرنے لگا اور اپنے آفس میں لے آیا۔
۔ نگینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسکا تعارف کروانے لگا ۔یہ میری اسسٹنٹ ہے۔ نگینہ میرا رائٹ ہینڈ ۔۔نگینہ نظریں جھکائے سب سن رہی تھی۔ نگینہ کے کھلے بال اور گلے میں ڈوپٹہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ پروجیکٹ میں آنے والے مہمان حوس کا شکار تھے جس انداز میں مہمان نگینہ کو دیکھ رہے تھے جیسے شکاری کتے اپنا شکار دیکھتے ہیں اور موقع ملنے پر جھپٹ لیتے ہیں ۔
۔نگینہ نے ذرا سی نگاہ اُٹھائی اور ارشد کا اشارہ دیکھا ارشد کا اشارہ نگینہ سمجھ چکی تھی نگینہ اب پروجیکٹ کے حوالے سے دوسری پارٹی کو کھڑی ہو کر سپلائی اور اہم موضوعات پر بات کرنا چاھتی تھی۔۔ دوسری پارٹی میں ایک ادھیڑ عمر شخص رنگ سانولا پستہ قد پینٹ شرت ٹائی لگائے ہوئے تھا جبکہ دوسرالڑکا ایک نوجوان تھا شاید اسکا اسسٹنٹ تھا ۔۔ارشد نگینہ کو آگے اس لیے لانا چاہتا تھا کہ اس عمر کے لوگ نوجوان لڑکیوں کی بات مانتے ہیں او اس سے با آسانی ایگریمنٹ پر سائن کروائے جا سکتے ہیں تو سر ہمارا کام یہاں تک ہے کہ آپکو مال کی پیکنگ کروا کر آپکو ڈلیور کر دیا جائے گا اور باقی ضروری باتیں جو ارشد نے نگینہ کو بتائی تھی وہ سب باتیں نگینہ نے بشیر صاحب اور انکے اسسٹنٹ کو بتا دی۔
بشیر اسکی بات پر وجہ کم اور اسکے جسم پہ نظر ذیادہ رکھے ہوئے تھا ٹھیک ہے ہمیں اگریمنٹ دیں میں دستخط کر دیتا ہوں ۔
اس بات پر ارشد مسکرایا اور نگینہ سے کو ایگرمینٹ پکڑاتے ہوئے مسکرایا۔ نگینہ ٹیبل پہ کھڑی پین ہاتھ میں تھماتے ہوئے ۔۔سر یہ لیں ادھر سائن کر دیں۔شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اس پستہ قد کے آدمی نے سائن کرنے کے لیے پین پکڑا۔
نگینہ کی ہاتھ کو چھونے کی کوشش کرنے لگا نگینہ جھٹ سے تھوڑا سائیڈ پہ ہو گئی ۔ارشد نہ کوئی بات بھی نوٹ نہ کی کیوں کہ اسے پروجیکٹ ملنے کی خوشی تھی ارشد اسسٹنٹ سے محو گفتگو ہو گیا۔ آج میں بہت خوش ہوں کہ نیا کام مل گیا ہے۔۔ ارشد آپ نے اُسکی نگاہیں دیکھی کس قدر خطرناک نظر آ رہی تھی۔۔۔ نگینہ یہ چھوٹی موٹی باتوں کو نظرانداز کرو گی تو آگے بڑھ سکو گئی نگینہ نے اثبات میں سر ہلاکر ارشد کی ہاں میں ہاں ملائی اور کیفے میں جا کر کافی پی ۔
۔۔اچھا کل ذرا میں شہر سے باہر جا رہا ہوں پیچھے خیال رکھنا ۔۔۔ٹھیک ہے ۔ارشد میں دیکھ لوں گی اچھا تمھیں کچھ چاہیے تو بتا دومیں لے کر آؤں گا۔ارشد نگینہ کو دیکھتے ہوئے سوال کر رہا تھا۔۔ میری طرف دیکھو کیا بات ہے آج بجھی بھجی سی لگ رہی ۔۔ہو کچھ نہیں بس ویسے ہی نہیں تم بتاؤ کیا ہوا۔۔ وہ ارشداسنے میرے ہاتھ کو چھونے کی کوشش کی تھی میں آئندہ انکے سامنے نہیں جاؤں گی۔۔۔ نگینہ میں نے آپسے کہا ہے نہ چھوٹی موٹی باتوں کو دل پہ مت لیا کرو اچھا ٹھیک ہے ۔
No comments:
Post a Comment